اتر پردیش میں ٹرین حادثہ: مزدوری کرنے گئے مظفرپور کے نوجوان کی المناک موت
مظفرپور کا سپوت پردیس میں بچھڑ گیا
ضلع مظفرپور کے اورائی تھانہ حلقہ سے تعلق رکھنے والے ایک 31 سالہ نوجوان کی اتر پردیش کے خلیل آباد میں ٹرین حادثے کے دوران موت ہو گئی۔ اس افسوسناک واقعے نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا ہے۔ متوفی کی شناخت راجکھنڈ شمالی پنچایت کے وارڈ نمبر 11 کے رہائشی وجے مہتو کے طور پر ہوئی ہے۔
پردیس میں مزدوری کا سفر اور اچانک موت
وجے مہتو روزگار کی تلاش میں تقریباً دو ماہ قبل خلیل آباد گئے تھے، جہاں وہ ایک راج مستری کے ساتھ بطور مزدور کام کر رہے تھے۔ ہفتہ کی رات جب وہ اپنے کام سے فارغ ہو کر واپس قیام گاہ کی طرف لوٹ رہے تھے، تبھی خلیل آباد ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک المناک حادثے میں ان کی جان چلی گئی۔ اتوار کی صبح جب پولیس کو لاش ملی، تب اس حادثے کا انکشاف ہوا۔
پسماندگان پر ٹوٹ پڑا غم کا پہاڑ
وجے مہتو اپنے پیچھے ایک بھرا پورا خاندان چھوڑ گئے ہیں، جن میں ان کی اہلیہ پرینکا کماری، تین سالہ بیٹا انکوش کمار، آٹھ ماہ کی بیٹی روہی کماری، بوڑھی ماں، چھوٹا بھائی اور ایک چھوٹی بہن شامل ہیں۔ وجے اپنے خاندان کے واحد کفیل تھے، جن کی موت کے بعد اب ان کے اہل خانہ کے سامنے زندگی گزارنے کا بڑا بحران پیدا ہو گیا ہے۔
آخری رسومات اور انتظامیہ سے مطالبہ
متوفی کے چھوٹے بھائی رنجیت کمار نے خلیل آباد پہنچ کر قانونی کارروائی مکمل کروائی۔ پیر کے روز پوسٹ مارٹم کے بعد لاش کو ایمبولینس کے ذریعے آبائی گاؤں لایا گیا، جہاں دیر رات ان کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔ مقامی نمائندوں نے حکومت اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس غریب خاندان کی مالی مدد کی جائے تاکہ وہ کسی طرح اپنا گزر بسر کر سکیں۔ اورائی تھانہ انچارج ہیم لتا کماری نے بتایا کہ خلیل آباد پولیس سے رابطے کے بعد معاملے کی مزید جانچ کی جا رہی ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
