سوشل میڈیا کی طرف بڑھتے رجحانات:تدارک و علاج

سوشل میڈیا کی طرف بڑھتے رجحانات:تدارک و علاج
مکرمی!
سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ نے آج نوجوان نسل کو اس قدر تباہ و برباد کر رکھا ہے کہ آج انہیں اپنی فکر کم اور دوسروں کے میسیج آنے کی زیادہ فکر لگی رہتی ہے سوشل میڈیا کا اطلاق ان تمام سماجی ویب سائٹ پر ہوتا ہے جس کے ذریعہ ہمارا ایک دوسرے سے کنکشن ہوتا ہے مثلا فیس بک،انسٹا گرام،ٹویٹر اور واٹس ایپ وغیرہ فی الحال یہ ایک بیماری کی شکل اختیار کرچکا ہے یا اسے بیماری کی دوا بھی کہ سکتے ہیں کہ اگر ایک گھنٹہ دور رکھ دیا جائے اور پھر قریب لاکر استعمال کیا جائے تو ایک سکون سا محسوس ہوتا ہے۔
اگر آپ کے پاس ساتھ بھی یہ معاملہ ہے تو آپ سمجھ لیجیے ایک ایسے مرض میں مبتلا ہوچکے ہیں جو آپ کے مستقبل کو بآسانی برباد کر سکتا ہے اگر آپ طالب علم ہیں تو سمجھ لیجیے یہ آپ کے لیے سرطان سے کم نہیں خیر میں نے سرطان کہ کر کچھ زیادہ ہی کر دیا اگرآپ اپنے فون پرانٹرنیٹ استعمال کر رہے ہوتے ہیں اور اس دوران آپ کا وائی فائی یا نیٹ ورک بند ہوجاتا ہے تو آپ کے انگلیوں میں ایک درد سا محسوس ہونے لگتا ہے اور بغیر انٹر نیٹ کنکشن کے آپ بار بار موبائل اسکرین پر انگلیاں کرتے دکھائی دیتے ہیں۔اور اگر کسی کو آپ نے میسیج کیا اور نیلا رنگ کا ٹک مارگ جب تک نہیں لگ جاتاتو سمجھ لیجیے اس وقت آپ سے زیادہ کوئی پریشان نہیں ہوتا۔اسی طرح سے آپ نے اگر کسی گروپ میں میسیج کیا اور کسی نے آپ کے خلاف کچھ لکھ دیاتواس وقت آپ نفسیاتی طور پہ اس طرح پریشان ہوجاتے ہیں کہ آپ کو اس شخص سے بڑا کوئی دشمن نظر نہیں آتا اگرچہ آپ کا خاص دوست ہے اور اس کے خلاف آپ ہر چند کوشش کرنے لگتے ہیں
ایسے ہی آپ نے فیس بک پہ کچھ پوسٹ کیا ہے اور اس پر اچھے تبصرے اور لائکس نہیں آرہے ہیں تو اس وقت بھی آپ ذہنی طور پہ کافی پریشان نظر آتے ہیں کیوں کہ آپ کی پسندیدہ چیز کو لوگ پسند نہیں کر رہے ہیں،اور اسے بار بار چیک کرنے کے چکر میں اپنی پڑھائی سے لے کر اہم سے اہم کام روک دیتے ہیں ۔
اگر یہ خصلتیں آپ کے اندر بھی پائی جاتی ہیں تو سمجھ لیجیے کہ آپ سے بڑھ کر اس دنیا اس مرض کا شکار کوئی نہیں اور آپ کو علاج کرانے کی سخت ضرورت ہے اس قسم کی بیماری میں عموما کالج اور یونیورسیٹیز کے طلبہ بکثرت مبتلا ہوتے ہیں کیوں کہ ان کے دوستوں کی لسٹ ایک ہی سال میں کچھ زیادہ ہوجاتی ہے اگر میں نے علاج کرانے کو کہ دیا تو اس پر ہنسنے کی ضرورت نہیمں کیوں کہ خبر کے مطابق دیلی کے ایمس نے ایسے لوگوں کے لیے سائکریٹک او پی بی ڈی کی شروعات کردی ہے جنہیں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیاکی لت لگ گئی ہے۔ڈاکٹروں کے مطابق اس مرض میں اسکول کے بھی بچے کافی تعداد میں شامل ہیں اس قسم کے مریض میں ڈپریشن بے چینی اور منشیات کا استعمال عام ہے ابھی اس قسم کے مریض روزانہ چھ سے سات آرہے ہیں لیکن حالات کے الٹ پھیر سے جب لوگوں میں تبدیلی آئے گی تو اس مرض کے شکار میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ابھی تو یہ کلینک صرف سنیچر کو مریضوں کے لیے صبح نو بجے سے دوپہر دو بجے تک کھلا رہتا ہے لیکن ضرورت پڑنے پر اس کے اوقات بڑھائے جاسکتے ہیں۔
فی الحال یہ مرض دس سال سے کم عمر کے بچوں میں بھی اس قدر حلول کرچکا ہے کہ اگر انہیں موبائل دے دیا جائے اور ان سے اس کے بدلے کچھ بھی کام کرنے کو کہا جائے تو وہ کر سکتے ہیں۔ وہ کارٹون والے ویڈیو اور گیمز کے اس قدر عادی ہوچکے ہیں کہ اسکول کے کاموں پہ کم اور موبائل پہ زیادہ توجہ دیتے ہیں اور اپنا اچھا خاصا قیمتی وقت ضائع کر دیتے ہیں اکثر بچوں سے موبائل چھین لینے پر تشدد پہ اس قدر اتر آتے ہیں کہ اپنے بڑوں پربھی ہاتھ اٹھانےمیں شرم محسوس نہیں کرتے۔فورجی نیٹورک کی وجہ سے ان کے لیے گیم کھیلنا اور آسان ہوگیا ہے۔
ان باتوں سے بخوبی یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آئندہ دور میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا سے جڑی بیماریاں اور شدت اختیار کر سکتی ہے اس لیے والدین کو اپنے بچوں پہ کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے اور انہیں موبائل سے حتی الامکان دور رکھیں۔
بہرحال نوجوان نسل سے دردمندانہ گزارش گزارش ہے کہ وہ سوشل میڈیا کو ایک نعمت غیر مترقبہ سمجھ کر استعمال کریں۔غیر ضروری پوسٹ اور خود نمائی سے حتی الامکان گریز کریں اور اپنے مقصد پہ نظر رکھیں غیر مناسب کمنٹ اور فضول باتوں سے پرہیز کریں اور ہمیشہ اپنے کریئر کو بہتر بنانے کوشش کریں کیوں کہ
اپنے کردار پہ پردہ ڈال اقبال
ہر شخص کہ رہا ہے زمانہ خراب ہے