NEET پیپر لیک: طلباء کو سب معلوم ہے، تو پھر حکومت کیوں خاموش ہے؟ راہل گاندھی کا سوال
تعلیمی نظام پر سوالیہ نشان
ملک بھر میں NEET امتحان کے پرچے لیک ہونے کے معاملے نے ایک بار پھر تعلیمی نظام کی ساکھ کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ اس سنگین مسئلے پر اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے متاثرہ طلباء سے ملاقات کی اور ان کے خدشات کو براہ راست سنا۔ اس ملاقات کے بعد انہوں نے حکومت کی کارکردگی پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔
طلباء کی زبانی، کرپشن کی کہانی
متاثرہ طلباء نے راہل گاندھی کو بتایا کہ امتحان کے پرچے واٹس ایپ اور ٹیلی گرام جیسے پلیٹ فارمز پر کھلے عام فروخت کیے جا رہے ہیں۔ طلباء کے مطابق، انہیں یہ تک معلوم ہے کہ پرچے کس قیمت پر بک رہے ہیں، کون انہیں خرید رہا ہے اور اس پورے نیٹ ورک کے پیچھے کون سے مافیا سرگرم ہیں۔ طلباء کا سب سے بڑا دکھ یہ ہے کہ جب انہیں یہ تمام تفصیلات معلوم ہیں، تو پھر حکومت اور متعلقہ ادارے اس سے کیوں انجان بنے ہوئے ہیں۔
حکومت پر عدم اعتماد
راہل گاندھی نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کا نوجوان اب موجودہ نظام اور حکومت پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی شرمناک ہے کہ جس فوج کا کام سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے، آج اسے کرپشن کی نذر ہونے والے امتحانی پرچوں کی حفاظت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ نظام مکمل طور پر بوسیدہ ہو چکا ہے اور اسے معمولی تبدیلیوں سے ٹھیک نہیں کیا جا سکتا۔
مستقبل کا لائحہ عمل
راہل گاندھی نے مطالبہ کیا ہے کہ امتحانی نظام کو نئے سرے سے تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے طلباء، اساتذہ اور ماہرین تعلیم کو ایک ساتھ بیٹھ کر ایک ایسا شفاف نظام بنانا ہوگا جس پر ملک کے نوجوانوں کا اعتماد بحال ہو سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی صورت میں ایک اور نسل کا مستقبل اس کرپٹ نظام کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے اور طلباء کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ بند کرے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
