Bihar بِہَارFeaturedIslamOpinion مَشْوَرَہ ، خَیَالْSociety and Culture معاشرے

مومنو کا خواب غفلت

Advertisement

مومنو کا خواب غفلت

دوسرا حصہ

 

پہلے حصے میں ” مومنو کا خواب غفلت ” کے  عنوان سے جو میں نے  تحریر لکھا تھا  اسکا مطلب ہرذی شعور پر تو یہ بات  عیاں ہے مگر افسوس اس بات کی ہے کے  اپنے قوم کی اکثریت آج بھی اس غفلت  ذہن سے بہار آنے کو تیار نہیں – جو قوم اپنے عمل و کردار سے دنیا کی تمام  عصری تہذیب کو مٹا کرانسان کو  اس بات پہ مجبور کیا کی ہماری تہذیب و تمدّن ہی آلیٰ و افضل ہے ، جسکی نشاندہی تمام مذاہب کے کتابوں میں موجود ہے – مگر افسوس صد افسوس کی ہم کس  خواب غفلت میں پریں  ہیں کی بجائے ا پنی تہذیب کو نظر ثانی کئے دوسروں کے تہذیب کا مقلد ہوتے جارہے ہیں –

اگر بُرُا نہ مانے تو ایک بات کی جسارت کر رہا ہوں جو غور و فکرکے  لائق ہے – کیونکی آج جو ہندوستان کا ماحول ہے یہ کسی سے چھیپی ہوئی نہیں ، جہاں تک عوام الناس کا سوال ہے تو ، وہ آزادئ ملک کے بعد معاشی تنگی میں اسطرح شکار ہوۓ کی آج تک اس دلدل سےباہر  نکل نہیں پا ئے مگر باشعور ذہن کے مالک لوگ بھی سماج سے اسطرح الگ تھلگ رہے کی آپنی تہذیب و تمدّن کی فکر ہی نہ رہی – حالانکہ تہذیب و تمدّن کی بقا کے لئے مجالس و کانفرنسیز  کا اہتمام ہوتا رہا مگر وہ بھی بے راہ روی کا اسطرح شکار ہوتا رہا کہ  اصل مقصد سے دور ہوتا چلا  گیا –

Advertisement

کیونکی مجالس و کانفرنس کا اصل مقصد کیا تھا، اطیعوا الله و ا طیعوا لرسول ، مگر ائمہ دین نے آپنی مسلکی داؤ پیچ میں  اسطرح الجھے کی اصل مقصد سے کوسوں دور ہو تے چلے گئے اور اسلام کا شیرازہ  بکھرتا چلا گیا – تمام کانفرنسز و مجالس کا مقصد صرف اور صرفتنقیدی مضامین  پر منحصر ہوتا رہا اور عوام کو ایک ایسے راستے پر دھکیل دیا گیا جہاں نفرت ، اور بکھراؤ کے سوا کچھ نہ تھا – عا لم دین تو رسول اکرم صلّ الله علیہ و سلم کے دین کے وارث ہیں ، کیا وارثوں کو  اس بات کا بھی خیال نہ رہا کی اگر دین کا شیرازہ  بکھڑ گیا تو ہماری وراثت بھی ختم ہو جائے گی – مدارس کا حال یہ ہے کی ہر مکتب فکر کے ائمہ آپنی پسند کی کتابیں پڑھانے پر جوڑ دیتے ہیں ، انھیں اس بات کا بھی خیال نہ رہا کی ہمارے فارغین کا سماج پر کیا اثر ہوگا – مسلکی لڑائی ہر دور میں ہوتا آ رہا ہے مگر اسوًہ رسول کو لوگوں نے بکھرنے نہ دیا –                           

آ ج  اسد ضروری ہے کی ائمہ دین اس بات پر نظر ثانی کریں کی ماضی کی غلطی کو سوارنے کی سعی کریں اور امت مسلمہ میں اتحاد و اخلاق کا کردار پیدا کریں تا کہ عالم دُنیا نے بربریت کا جو ٹیگ  ہمارے اُپر چپکایا دیا  ہے اسے کو  ختم کریں – اور  اسکو ختم کرنے کا ہمارے پاس صرف ایک  ہی طریقہ  ہے وہ ہے  اسوۂ حسنہ ، اسکی ایک جیتی جاگتی  مثال (مائیکل  ح  ہارٹ )  کی کتاب          The 100           ہمارے سامنے ہے –  جو ایک کٹر  نصرانی مسلک  کا ہوتے ہوئے بھی محمّد صل الله علیہ و سلم کو آپنی کتاب میں اول نمبر پر رکھنے پر  مجبور ہو گیا ، اسکی صرف ایک وجہ تھی آپ صل الله کا اسوۂ حسنہ، ( یعنی کردار ، اخلاق ، مساوات ) – آج ہم مسلمان بھی اگر دنیا میں سر خرو ہونا چاہتے ہیں تو آپنے  نبی کے اسوۂ حسنہ کو عام کرنا ہوگا –

سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا ،شجاعت کا

 لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

 

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

اپ یڈ بلاکر کو ہٹا کر ہمارے ویب سائٹ کو دیکھئے