مومنو کا خواب غفلت

مومنو کا خواب غفلت
حصہ اول
بڑ ے افسوس کی بات ہے کی ہمارے دماغ میں آج بھی وہی خوش فہمی ہے کی ہمارے اباء و اجداد آٹھ سو سال حکومت کی ہے مگر اس حقیقت سے نا اشناء ہیں کہ جب تک ہم نے شمشیر و سنان کو اپنا شعار بنایا تھا تب تک دنیا ہماری قدم چوم رہی تھی اور جیسے ہی ہم نے عیش و عشرت کو اپنایا، ذلت اور رسوائی ہمارا مقدر بن گیا – جو قوم امر بن معرف کا پرچم لئے پھرتی تھی وہ آج دنیا کے جاہ و جلال کے سامنے سرجھکانے پر مجبور ہے -اسکی ایک وجہ ہے ، اسوہ رسولﷺ کو آپنی زندگی سے دور کر دیا ہے ، علم کو اپنا پیشہ بنالیا ، معاشرے میں مساوات کو ختم کردیا تب سے ذلت ہمارے زندگی کا مقدر بن گیا ہے -یہ المیہ ہے اس قوم کا جس کے ذریعہ الله نے فرعونیت کو غرق کیا ، قارون کو زمین دوز کیا ، شداد کی جنّت چھین لی کیونکی انکا سعی تھا ، یقین محکم عمل پیہم اور محبت فا تح عالم مگر ہمارا سعی کیا ہے جسکو علامہ اقبال نے یوں فرمایا ہے
تھے تو اباء و اجداد تمہارے مگر تم کیا ہو – ہاتھ پے ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو
آج ہمیں عذاب کا ڈر نہیں ، ہم نے نعمتو ں کا شکر گزاری کرنا چھوڑ دیا ، انشاءالله کے بجائے ہمنے الیکٹرونک وجود پر زیادہ بھروسہ کرنا شروع کر دیا ہے ، دنیا کے تگ و دور میں حلال و حرام کی تمیز نہیں ، اس پر بھی ہماری ہٹدھرمی یہ ہے کی گھن کی طرح گیہوں کے ساتھ پس جانے کو محض ایک اتفاق سمجھتے ہیں –
آج دنیا ایک قیامت صغرا سے دوچار ہے جسکی نشاندیہی الله نے قرآن میں سوره زلزلہ میں کیا ہے، مگر ہم لوگ قرآن سے اتنا دوری ہوئے ہیں کی دنیا کی باتیں جو میڈیا کے ذریعہ بتائی جاتی ہے سمجھ میں اتا ہے مگر قرآن کی بات جسکو الله نے نبی معظم کے ذریعہ 1400 سو سال پہلے اتارا سمجھنے سے پرے ہیں – اور یہی وجہ ہے کی ہم دھرے دھرے ایمان سے دور ہوتے جارہے ہیں – ذلت ہمارا مقدر بنا ہوا ہے ، تنگ دستی دہلیز پر پیر پھیلائے بیٹھا ہے – اب ہمارے پاس اپنے ماضی سے جوڑ کر خوش ہونے کے سوا کچھ بھی نہیں –
کی محمّد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں – یہ جہاں چیز کیا ہے لوح و قلم تیرے ہیں