جسم و زباں کی موت سے پہلے بول! کہ یہ تھوڑا وقت بہت ہے

جسم و زباں کی موت سے پہلے بول! کہ یہ تھوڑا وقت بہت ہے
ملک بھر میں این آر سی، سی اے بی، سی اے اے اور این پی آر کی شور سنائی دینے سے قبل تو مسلمانوں کی گروہ بندیاں، فرقہ پرستی، مسلک مسلک کے گھناؤنے کھیل، ایک ہی محلہ میں واقع پارٹی بندی کے نام پر ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی الگ الگ مسجدوں کی تعمیر ، الگ تھلگ خانقاہیں، ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنا، فتویٰ بازی کرنا، کسی کو دین سے نکال کر گمراہ و بددین قرار دے دینا اور دوسروں کی دھجیاں اڑانے خاطر کتابچے و لٹریچر شائع کروا کر شاہراہ عام پر تقسیم کرنا وغیرہ وغیرہ یہ سب ایسے پرخطر مثال ہیں جنھوں نے اب تک لفظ "اتحاد” کو پارہ پارہ کر کے رکھ دیا تھا. جب بھی کسی سے اتحاد کی بات سنتا تو بے اختیار ہنسی آنے لگتی کہ دیکھیں تو سہی ! یہ شخص کس طرح اول فول بک رہا ہے اور سامعین کو پہیلیاں سنا سنا کر بہلانے و پھسلانے کا کام کر رہا ہے.
مگر ۔۔۔ مگر مودی و شاہ کے ذریعے پاس کیے گیے حالیہ سیاہ قانون نے تو اس دم توڑتے لفظ ” اتحاد” کو پھر سے زندہ کر دیا. اس کی رگ جاں میں ایک ایسی نئی روح پھونک دی کہ وہ اب تک اتنی کڑاکے کی ٹھنڈی ہونے کے باوجود برابر اپنی شان و شوکت دکھاتا ہی چلا جا رہا ہے. جی ہاں! آپ بالکل ٹھیک سمجھ رہے ہیں. آج کے کالم میں جس اتحاد و یکجہتی کی میں بات کرنا چاہتا ہوں، وہ وطن عزیز میں ہو رہے وہی احتجاجات و مظاہرے ہیں، جن کی ابتدا ملک کی دو مشہور یونیورسٹی "جامعہ ملیہ اسلامیہ” اور ” علی گڑھ مسلم یونیورسٹی” نے کی ہیں. ایک بات ضرور یاد رکھیں کہ یہ وہ اتحاد نہیں ہے کہ دو مسلک والوں نے سارے شکوے گلے بھلا کر مسلک مسلک کھیلنا بند کر دیا ہے اور ایک دوسرے پہ کیچڑ اچھالنا بھی _ نہیں ۔۔۔ ہرگز نہیں ۔۔۔ بلکہ یہ اتحاد اس حکومت کے خلاف وجود میں آیا ہے، جس نے اسے غیر ملکی قرار دینے کی گھٹیا کوشش کی ہے تا کہ اس کے سارے املاک و جائداد ضبط کر لیے جائیں. یقین جانیں! اس اتحاد کو چنگاری سے شعلہ جوالہ بنا دینے میں نوجوان طبقوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے.
اب تک آپ یہ بھی سنتے چلے آ رہے تھے کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے ۔۔مگر ۔۔۔شاہین باغ کی شاہین صفت ماؤں و بہنوں نے یہ ثابت کر دیا کہ نہیں! ہم جو نصف ماہ یا اس سے زیادہ دنوں سے اس کھلے آسمان تلے ایک تحریک چھیڑے بیٹھے ہیں یہ تاریخ میں ایک منفرد شناخت و چھاپ چھوڑنے والی ہے. جی ہاں! اب قیادت کی ذمہ داری بھی نوجوانوں نے سنبھال لی ہیں. اب وہ قائدین، جن کا نام مبارک آپ بڑی بڑی کانفرنسوں میں سنا کرتے تھے، انھوں نے اب یا تو مورچہ سنبھالنا چھوڑ دیا ہے یا۔۔۔یا وہ تا ہنوز صرف یوں ہی اوٹ پیچھے بناوٹی اصولوں میں بھولے بھالے سادہ دل عوام کے دلوں پر اپنی بے بنیاد قائدانہ صلاحیتوں کا دھونس جما رہے تھے…. مگر کیا کیجیے گا! اب تو یہ ساری حقیقتیں اور بناوٹیں واشگاف ہو چکی ہیں۔
کیا آپ کو نہیں لگتا ہے کہ اس اتحاد کی چنگاری کو بہت پہلے ہی روشن ہو جانی چاہیے تھی؟ جی اگر ہم نے اس اتحاد کی دیپ کو ہندو، مسلم، سیکھ اور عیسائی کی مشترکہ تیل سے بہت پہلے ہی روشن کر لی ہوتی تو آج ہمیں اور آپ کو ملک بھر میں چل رہے ان مخالف ہواؤں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا.
خیر ۔۔۔ دیر آید درست آید ۔۔۔ اب یہ بات بھی دریچہ ذہن میں محفوظ رہنی چاہیے کہ اس وقت یہ پہل ایک تحریک اور موبھمنٹ کی حیثیت اختیار کر چکی ہے. اس میں کئی ایک ہمارے افراد اپنی جان تک بھی گنوا چکے ہیں. کبھی ہمارے بھائیوں کے لہو سے یوپی کی سرزمین سرخ ہوئی ہے تو کبھی راجدھانی دہلی کی، اور زخم کے انگاروں پہ تو انگنت افراد چل چکے ہیں ۔ مگر اب بھی اس خون جما دینے والی ٹھنڈی میں جمہوری اقدار کو بچانے کے لیے ہر انصاف پسند کا دل و دماغ برابر حرکت کر رہا ہے. جب تک جامعہ کی چہاردیواری سے "ہم لے کے رہیں گے آزادی” کے فلک شگاف نعرے اور شاہین باغ سے شیرنیوں کی دہاڑے سنائی دیتی رہیں گے ۔۔۔تب تک شب دیجور میں امیدوں کے چراغ کے ساتھ ہماری دم توڑتی وجود کی مدھم مدھم سی روشنی بھی زنداں کے دیوار سے چھن چھن کر جمہوریت کی بقا کے لیے آواز لگاتی رہے گی. یہ ایک انقلاب ہے جو آزاد بھارت میں پہلی مرتبہ آزادی کے خوبصورت لباس میں ملبوس ہوئے سر چڑھ کر بول رہا ہے. بس ہمیں اور آپ کو کرنا یہ ہے کہ اسے نحیف و لاغر نہیں ہونے دینا ہے…. انقلاب، انقلاب کا نعرہ جس طرح بھی ہو، بلند کرتے رہنا ہے، اگرچہ جان و مال کی عظیم قربانی ہی کیوں نہ دے کر اسے جوان رکھنا پڑے. یہ لمحے بھر کی غلطیوں ہی کا نتیجہ ہے کہ ہمیں اور آپ کو یہ خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے. اس موقع پر اگر نوجوان لہو سست پڑ گیا تو پھر ہماری وجود میں وہ گھن بھی لگ جائیں گے جس کے درپے مودی، شاہ اور یوگی جیسے غنڈے ہیں. اس وقت بہت سے سرخیل حضرات جگہ جگہ عظیم الشان ریلیاں کرکے برابر کمک پہنچانے کا کام کر رہے ہیں. مسلموں کے ساتھ ساتھ کئی ایک ایسے نام و اپوزیشن پارٹیوں کے سیاسی رہنما ہیں جو ذات پات اور مذہب و مسلک سے کوسوں اوپر اٹھ کر اسے تیز و تند لو عطا کر دینے میں مصروف ہیں. مگر! مودی ،شاہ اور یوگی ہیں کہ جنرل ڈائر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آر ایس ایس کے غنڈوں سہارے جلیاں والا باغ کا سماں ہر جگہ پیدا کر دینے پہ مصر ہیں.
ابھی حال ہی میں مودی کی نگری "بنارس” میں جس قدر بے دردی کے ساتھ پولیس کے بھیس میں حکومتی غنڈوں نے ایک مدرسہ کے ننھے منھے نہتھے طالب علموں پر لاٹھیاں برسائی ہیں اسے ہرگز کبھی نہیں بھلایا جا سکتا ہے. میرٹھ، سہارنپور، لکھنؤ، رام پور، کانپور، سنبھل اور مرادآباد جیسے اضلاع میں جس طرح پولیس نے مسلم گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ اور چھن جھپٹ کی ہیں وہ کسی بھی طور پر ہندوستانی جمہوریت سے میل نہیں کھاتا ہے. ہٹلر شاہی کو جس قدر لوگ پہلے جانتے تھے، مودی اور شاہ کی من مانی نے ہندوستانی آنکھوں کے سامنے اس کی مثال زندہ کر دینے میں بھڑکتی آگ میں گھی ڈالنے جیسا کام کیا ہے. یوپی پولیس کی شوریدہ سری اور اندھ بھکتی تو دیکھیے کہ 20،دسمبر 2019 کو فیروز آباد میں ہوئے احتجاج کی بدولت شہر کی امن و آشتی کو جن دو سو لوگوں سے خطرہ لاحق ہے، اس میں ایک نام "بننے خان” بھی ہے، جو تقریباً 6،سال قبل ہی وفات پا چکے ہیں اور اب جا کر مودی حکومت کو اس سے خطرہ لاحق ہو رہا ہے. پولیس کی نوٹس کے مطابق اسے دس لاکھ روپیے بطورِ ضمانت ادا کرنی ہے. ہائے افسوس! اس کاروائی پہ تو سر پیٹ لینے کو دل کرتا ہے جی ہاں! جب اندھ بھکتی میں ساری عقل مار لی جاتی ہیں تو ایسے ہی بھونڈے مقدمات وجود میں آتے ہیں.
اس وقت ہندوستان برابر اپنا رنگ و روپ بدل رہ ہے. مٹھی بھر لوگ آر ایس ایس کی چڈی پہن کر ساورکر، ہٹلر اور جنرل ڈائر جیسے خونخوار درندوں کی داستان دلخراش دہرانا چاہتے ہیں. پر انھیں اب بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اقتدار کے نشے میں جب ظلم و ستم آوارہ ہو جائے تو وہی افیون و زہر بن کر خود ظالموں کی خون پی جاتا ہے ۔۔۔ بس تھوڑا اور انتظار کرلیں. ملک کی 95٪ عوام تخت و تاج چھین لیں گے. اگر جمہوریت کی نگری میں عوام کسی کو حکومتی باگ ڈور سونپنا جانتے ہیں تو وقت آنے پر وہ اس سے چھن کر ذلت و نکبت کے دھول بھی چٹانا جانتے ہیں. اس وقت ملک کا وہ کون سا حصہ نہیں ہوگا کہ جہاں عوام مشتعل ہو کر روڈ پر نہ اترے ہوں؟ مگر یہ شاہ اور مودی ، گودی میڈیا اور پنڈت سدھ بھاونا کو ساتھ لے کر پوری دنیا کو ین آر سی کے ے کالے قانون کی حمایت کی مہم میں شریک کرنا چاہتے ہیں. اتنے کم بخت و ظالم حکومت تو آزاد بھارت میں کبھی نہیں آئی تھی کہ وہ مسلم دشمنی میں اس قدر اتاولے ہو جائے کہ گنگا جمنی تہذیب ہی داؤ پر لگا دے. آخر جن کے دامن ہی گجراتی مظلوم مسلمانوں کے لہو سے شرابور ہوں، گو وہ کب مسلمانوں تئیں وفادار و خیر خواہ ہو سکتے ہیں؟ کبھی نہیں ۔۔۔ہرگز نہیں ۔ مگر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے سلام ہے ان بھائیوں، بہنوں، ماؤں، اور حزب مخالف سیاسی رہنماؤں پر جو اس سیاہ قانون کے خلاف مسلسل لکھ، بول رہے ہیں. تحریک کی خوبصورتی کو مذہبی رنگ میں رنگنے نہیں دے رہے ہیں اور برابر عملی اقدامات کر رہے ہیں.
یقیناً اس وقت پوری دنیا میں امن پسند افراد اس کالے قانون پر تھو تھو کر رہے ہیں ۔ خیر، اب ملک کے سیکولر عوام جاگ چکے ہیں۔ ضرور ہمارے مرحوم بھائیوں کے لہو، ماؤں و بہنوں کی شب بیداریاں، بوڑھے باپ کی آہ و فغاں اور نوجوانوں کے کوہ پیماں امنگ و حوصلے ضرور رنگ لائیں گے. مودی جی! یہ ضرور یاد رکھنا کہ آپ نے اس قوم سے آنکھیں لڑانے کا کام کیا ہے جہاں سے دوسری اقوام جذبات و حوصلوں کی بھیک لیا کرتے ہیں. اب ہمارے بڑھتے قدم درمیاں میں روک نہ پاؤ گے! کیوں کہ ہم اس جمہوریت کی نگری میں آزاد ہند کے سورماؤں جیسے : بھیم راؤ امبیڈکر، اشفاق اللہ خان، سبھاش چندر بوش، گاندھی جی، ابوالکلام آزاد، علامہ فضل حق خیر آبادی اور رام پرساد بسمل جیسوں کے ماننے والے ہیں. ہمیں جناح، ساورکر، گاندھی کے قاتل گوڈسے، جنرل ڈائر، ویڈولف ہٹلر کے قائد و نظریات سے کوئی سروکار نہیں ۔بس یہ سب تمھیں مبارک!!! ہمارے کام تو یہی بہترین ترجمانی کرنے والا نظم ہے
تانا شاہ آکر جائیں گے
ہم کاغذ نہیں دکھائیں گے
تم آنسوں گیس اچھالوگے
تم زہر کی چاے ابالوگے
ہم پیار کی شکر گھول کے اسکو
گٹ گٹ گٹ پی جائیں گے
ہم کاغذ نہیں دکھائیں گے
یہ دیش ہی اپنا حاصل ہے
جہاں رام پرساد بھی بسمل ہے
مٹی کو کیسے باٹوگے
سب کا ہی خون تو شامل ہے
پولس سے لٹھ پڑھادوگے
تم میٹرو بند کرادوگے
ہم پیدل پیدل آئیں گے
ہم کاغذ نہیں دکھائیں
ہم منجی یہیں بچھائیں گے
ہم کاغذ نہیں دکھائیں گے
ہم سنویدھان بچائیں گے
ہم جن گن من بھی گائیں گے
ہم کاغذ نہیں دکھائیں گے
تم ذات پات سے بانٹو گے
ہم بھات مانگتے جائیں گے
ہم کاغذ نہیں دکھائیں
وروں گروور کی لکھی نظم ہم کاغذ نہیں دکھائیں
DISCLAIMER: The views and opinions expressed in this article are those of the authors and do not necessarily reflect the official policy or position of TheAinak.com