Uncategorized

امام احمد رضا فاضل بریلوی کی محدثانہ بصیرت

Imam Ahmad Raza Khan ki muhaddisana baseerat

Advertisement

انسانی تاریخ میں نہ جانے کتنے عروج و زوال اور ادبار واقبال کے ادوار آئے اور ہر مرتبہ ایک نئی تاریخ مرتب ہوئی۔چونکہ خلاق عالم کو انسان کی بقا وسلامتی منظور تھی اس لیے ہر موڑ پر اس نے اسے محفوظ رکھا اور اس کی نسل کو جلا بخشی۔حق کے سب سے بڑے داعی پیغمبر اسلام،نبی آخر الزماںﷺکے بعثت کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہوگیا۔حضورﷺ کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد بھی چونکہ انوار ربانی کا ظہوروقوع ہونا تھا اور دین کا مشن آگے بڑھنا تھا۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاے کرام کا وارث بناکر علمائے امت کو اس کا اہل اور ذمہ دار بنایا۔یہ سلسلہ ہر دور میںچلتا رہا۔اسی طرح صدیاں گزرتی رہیں ۔زمانہ کروٹیں لیتا رہا۔آگے چل کر ایک ایسا دور آیا،جس میں نئے نئے فتنے پیدا ہوئے اور بمصداق حدیث لوگ کئی فرقوں میں بٹ گئے۔ہر فرقہ حق پر ہونے کا دعویٰ کرنے لگا اور اپنے نظریات کی ترویج واشاعت میں مصروف ہوگیا۔جس کی وجہ سے شریعت کا شیرازہ منتشر ہونے لگا۔ایسے وقت میںاہل حق کی سر بلندی ااور اسلام وسنیت کی حفاظت وصیانت کے لیے اللہ تعالیٰ نے مجدد دین وملت،اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ1921-1856) (کو شہر بریلی میں پیدا فرمایا۔صحیح حدیث میں ہے کہ:
اللہ تعالیٰ ہر صدی کے اختتام پر اس امت کے لیے ایک مجدد ضرور پیدا فرمائے گاجو امت کے لیے اس کا دین تازہ کرے گا۔(ابوداؤد)
اعلیٰ حضرت اپنے زمانے کے ان عظیم علمائے کرام میں سے ہیںجن کے علم وبصیرت پر زمانہ آج بھی ناز کرتا ہے۔تفسیر قرآن ہو کہ حدیث واصول حدیث،اسلامی فقہ ہو یا شعر وسخن،ادب وتاریخ ہو یاریاضی و سائنسی علوم ہر شعبے میںآپ کو مہارت تامہ اور بصیرت کاملہ تھی۔کئی درجن علوم وفنون میں آپ کی ہزاروںشاہکار تصانیف موجود و یادگار ہیں۔فتاویٰ رضویہ کے نام سے 32جلدیں آپ کی انتہائی شاندار اور بے مثل کارنامہ ہے ،جسے دیکھ کر فتاویٰ عالم گیری کی یاد تازہ ہو جاتی ہے جو شہنشاہ ہندوستان اورنگ زیب عالم گیر کے عہد میں سو سے زائد علمائے کرام وفقہائے عظام کی کاوش ہے۔جب کہ فتاویٰ رضویہ اعلیٰ حضرت کی اکیلی ذات کا شاہکار ہے۔اس میں شامل احادیث کریمہ کی تعداد 3591ہے۔آپ کی تصانیف میں کہیں ضمناً اور کہں تفصیلاً حدیث ،معرفت حدیث اور مبادیات حدیث کی ایسی نفیس اور شاندار بحثیں ہیں کہ اگر انہیں امام بخاری اورامام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دیکھتے تو داد دیے بغیر نہ رہ سکتے۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا یہ اچھی طرح سمجھتے تھے اور اس بات کا خاص لحاظ فرماتے کہ کتاب اللہ یعنی قرآن کے بعد احادیث مبارکہ کی اہمیت ہے۔اسی لیے آپ نے کسی مسئلہ کو بیان کرنے کے لیے سب سے پہلے قرآن حکیم کی آیات پیش کیں پھر احادیث طیبہ تحریر کیں اور اس کے بعد فقہی جزئیات کے ساتھ ائمہ،فقہا اور علما کے اقوال پیش کیے۔اس طرح آپ نے ہر مسئلے کی تحقیق اور ثبوت میں دلائل کے انبار لگا دیے اور متعلقہ مسئلہ کے کسی بھی گوشہ کو تشنہ تکمیل نہیں چھوڑا۔جہاں ایک حدیث کے ذکر کرنے سے بھی مسئلہ حل ہوجاتا وہاں آپ نے کئی کئی حدیثیں برجستہ و بر محل پیش کیا ہے۔گویا فقہ کی نہیں بلکہ حدیث کی کتاب لکھنا چاہتے ہوں،اپنی اسی خصوصیت کی بناپر آپ اپنے معاصر علما وفضلا میں ممتاز نظر آتے ہیں۔کتب حدیث کی جتنی بھی اقسام ہیں،ان تمام کے سب حوالہ جات آپ کی نصانیف میں جا بجا ملتے ہیں۔علم حدیث میں فن تخریج حدیث کی اہمیت مسلمہ ہے،جس کے فوائد وضرورت و اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔امام احمد رضا نے اس بنیادی اور اہم فن حدیث میں بھی نمایاں خدمات سر انجام دی ہیں۔اس سلسلے میں آپ کی دو کتا بیں انتہائی اہم اور قابل ذکر ہیں۔پہلی اروج البھیج فی آداب التخریج اور دوسری النجوم الثواقب فی تخریج احادیث الکواکب۔معرفت حدیث پرتحقیق کے سلسلے میںآپ کی فہم وفراست اوربصیرت ومہارت کتنی ہے متذکرہ دونوں کتا بوں میں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔ان کے علاوہ بھی کچھ کتابیں نصنیف کیں ہیں جن کو پڑھنے کے بعدکوئی بھی قاری آپ کی حدیث دانی کا معترف ہو ئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ان میں سے چند قابل ذکر ہیں۔(1)منیر العینین فی حکم تقبیل الابھامین(2)الھاد الکاف لاحادیث الضعاف(3)حاجز البحرین لواقی عن جمع الصلاتین(4)مدارج طبقات الحدیث(5)الفضل الموھبی فی معنی اذا صح الحدیث فھو مذھبی۔مزیدبرآں آپ نے چالیس سے زائد کتب حدیث پر حواشی تحریر کیے ہیں ،جن میں سے صحاح ستہ کے حواشی نہایت جامع اور مفید ہیں۔ان حواشی کی خاص بات یہ ہے کہ یہ عام شارحین و مصنفین کی طرح عربی وفارسی متون وشروح سے ماخوذ نہیں بلکہ یہ آؔپ کے ذاتی اجتہادات و کمالات کی پیداوارہیں۔لہذا یہ حواشی بذات خود مستقل تصانیف کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جملہ علوم و فنون میں علم اسماء الرجال کو نہایت مشکل اوراق خیال کیا جاتاہے۔مگرفاضل بریلوی کو خدا داد صلاحیت،قابلیت اور علمی سطوت کی وجہ سے یہ فن اپنی دقت وپیچیدگی کے باوجود بھی سہل معلوم ہوتا ہے۔محسوس یوں ہوتا ہے کہ انہوں نے صرف اسی فن میں مہارت حاصل کرنے کی زندگی بھر جد وجہد کی ہے۔ لیکن آپ کے معمولات زندگی پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا ہر گز نہیں ہے بلکہ دیگر علوم پر بھی انہوں نے توجہ دی ہے۔اسی لیے فن اسما ء الرجال سے متعلق جتنے بھی علوم وفنون ہیں ان سب پر آپ کو مہارت تامہ و دسترس حاصل تھی ۔ علما فرماتے ہیں کہ اعلیٰ حضرت کی طرح اسما ء الرجال کا جاننے والا پچھلے چار سو سال میں پیدا نہیں ہوا ۔
امام احمد رضا کی تصانیف میں جہاں حدیث پاک کابحر ذخار ملتا ہے وہیں معرفت حدیث،طرق حدیث اور علل حدیث پر بھی شاندار اور دلچسپ بحثیں ملتی ہیں،جن سے حدیث کے صحیح وضعف،حسن وموضوع اور معلول ومنکر وغیرہ ہونے کا پتہ چلتا ہے۔متن حدیث کے ساتھ ساتھ سندحدیث پر جگہ جگہ دلچسپ ، نایاب اور قیمتی تحریریں ملتی ہیں جن سے راویوں کے احوال وآثار اور ان کی نقاہت وثقاہت کا بھی پتہ چلتا ہے۔اعلیٰ حضرت راوی کی حیثیت پر بھی بحث کرتے ہیں جو کہ قبول روایت حدیث میں بنیادی اہمیت کاحامل ہے۔
لوگوں میں یہ عام طور پر مشہور ہے کہ امام احمد رضا فاضل بریلوی ایک مولوی اور نعت خواں شاعر تھے اور بس۔لیکن درج بالا سطور اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ جہاں آپ کو علم ریاضی ،سائنس،علم ابجد،علم توقیت،اسلامی فقہ،فلکیات،وغیرہ میںگہری بصیرت تھی ۔وہیں علم حدیث میںبھی آپ کو تبحر حاصل تھا۔علم حدیث پر آپ کی تصانیف کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ فن حدیث واصول حدیث ہو یافن روایت ودرایت،فن جرح و تعدیل ہو اسماء الرجال،آپ علم حدیث کے ہر شعبے میں ایک بے مثال،ماہر اور فقید المثال محدث نظر آتے ہیں۔مولانا محمداحمد مصباحی صاحب لکھتے ہیں: امام احمد رضا بلند پایہ کے محدث تھے ، علم حدیث پر ان کو بڑا تبحر حاصل تھا اور ان کا مطالعہ بڑا وسیع تھا۔چنانچہ آپ سے پوچھا گیا کہ حدیث کی کتا بوں میں کون کون سی کتابیں آپ نے پڑھی یا پڑھائی ہیں۔تو آپ نے جواباً کہاکہ پچاس سے زائد کتب حدیث میرے درس وتدریس و مطالعہ میں رہی ہیں۔مسند امام اعظم،موطأامام محمد،کتاب الآثار،شرح معانی الآثار،(طحاوی)موطأ امام مالک،مسند امام شافعی،مسند امام محمد وسنن دارمی،صحیح بخاری ومسلم،ابوداؤد وترمذی،نسائی وابن ماجہ،مشکوۃ المصابیح ،کتاب الترغیب ولترھیب ،خصائص کبریٰ وغیرہ پچاس سے زائد کتابیں میرے تدریس و مطالعہ میں رہیں۔اعلیٰ حضرت کے وسعت مطالعہ کی شان یہ ہے کہ ’’شرح عقائد نسفی‘‘ کے مطالعہ کے وقت 70 شروح سامنے رہتیں۔ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:شرح عقائد نسفی میری دیکھی ہوئی ہے اور شرح عقائد کے ساتھ 70شروح وحواشی میں نے دیکھے ہیں۔( امام احمد رضا کی فقہی بصیرت از محمد احمد مصباحی)
مولانامحمد حنیف صاحب خان رضوی ’’جامع الاحادیث ‘‘میں تحریر فرماتے ہیںکہ:’’علم حدیث اپنے تنوع کے اعتبار سے نہایت وسیع علم ہے۔امام سیوطی قدس سرہ نے ’’تدریب الراوی ‘‘میں تقریباً سو علوم شمار کرائے ہیں جن سے علم حدیث میں رابطہ ضروری ہے۔لہذا ن تمام علوم میں مہارت کے بعد ہی علم حدیث کا جامع اور اس علم میں درجہ کمال کو پہنچا جا سکتا ہے‘‘۔جب ہم اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کی ہمہ جہت شخصیت اور ان کی تصانیف عالیہ کی طرف نظر ڈالتے ہیں تو فن حدیث ،طرق حدیث ،علل حدیث اور اسما ء الرجال وغیرہ میں بھی انتہائی منزل کمال پر دکھائی دیتے ہیںاور یہی وہ وصف ہے جس میں کمال وانفرادیت ایک مجدد کے تجدیدی کارناموں کا رکن اعظم ہے۔فن حدیث میں ان کی جو خدمات ہیں اور علم حدیث کے متعلق کہیں تفصیلاً اور اجمالاً حدیث ومعرفت حدیث اور مبادیات حدیث پر ایسی نفیس اور شاندار بحثیں ہیں کہ اگر انہیںامام بخاری اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دیکھتے تو ضرور ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتیں۔(امام احمد رضا اور علم حدیث از محمد عیسی رضوی صاحب)

😃+

نعیم الدین فیضی برکاتی

اعزازی ایڈیٹر:ہماری آوازویب پورٹل؍میگزین پرنسپل:دارالعلوم برکات غریب نواز احمد نگر کٹنی(ایم۔پی)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

اپ یڈ بلاکر کو ہٹا کر ہمارے ویب سائٹ کو دیکھئے