بدعملی ہمیں لے ڈوبی

🌹بدعملی ہمیں لے ڈوبی🌹
آج ہمارےملک میں چاروں طرف قتل و غارت گری اور کرپشن کا بول بالا ہے .بےگناہ نوجوانوں کو دہشتگردی کا جھوٹا الزام لگاکر سالوں سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے اذیتیں دی جارہی ہیں , جانور کے آگے مسلمانوں کی جانیں بےمول ہوچکی ہیں .نہ آج ہم مسلمان معاشی طور پہ مضبوط ہیں, نہ ہمارا تعلیمی نظام بہتر ہے , نہ ہی ہماری کو ی سیاسی پہچان ہے جس کی وجہ سے ہم بار بار ڈسے جارہے ہیں.
ہمیں اپنے ہی ملک سے بھگانے کی بات کہی جاتی ہے نہ ہم اپنے حقوق کی لڑائی لڑسکتے ہیں نہ ہی انصاف کے لئے آواز بلند کرسکتے ہیں کیونکہ ہماری آواز دبانے کی خاطر آئے دن ہم پہ کئی طرح کے قانونی حربہ آزمائے جارہے ہیں اور ہمیں مزید کمزور کرنے کے لئے حال ہی میں پارلیمنٹ سے , این آر سی, جیسے بل بھی پاس کروائے جاچکے ہیں جن کو مستقل ہمارے خلاف استعمال کیا جائے گا .
اب ان سنگین صورتحال کے چلتے ایک مسلمان اور ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے ہمت جٹاکر ہمیں خود سے اپنی حالت بدلنی ہوگی تبھی ہم ملک کی حالت بدل سکتے ہیں آج ہماری قوم کی خستہ حالی کی وجہ دین سے بے راہ روی اختیار کرنا اور تعلیم سے بے بہرہ ہونا ہے . ہمارے معاشرے کو عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم ضروری ہے تاکہ اپنے کردار کی خوشبو سے ہم اپنے ہمسایوں کا دل جیت سکیں . اور اپنی کمزوریوں کمیوں خامیوں کو پہچان کر موجودہ حالات سے نپٹنے کے لئے مثبت اقدام اٹھاسکیں اپنے محب وطن کو دوبارہ امن بھائی چارے کا گہوارہ بناسکیں اور اپنی قوم کا کھویا ہوا وقار واپس لاسکیں
اس کے لئے ہمیں اپنے کردار کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا بنانا ہوگا قرآن و حدیث کو مضبوطی سے تھامے رکھنا ہوگا تاکہ ہم گمراہ ہونے سے بچ سکیں یاد رہے اس فتنہ بھرے دور میں اگر کوئی ہمیں گمراہی سے بچاسکتا ہے تو وہ اللہ سبحان تعالی کی کتاب ہے جو ہمیں دونوں جہاں میں فلاح دلواسکتی ہے اس کو مضبوطی سے تھامے رکھیں اور علم کی دولت سے خود کو مالامال کریں کیونکہ یہ وہ دولت ہے جو لازوال ہے .
آج ملک کو ضرورت ہے نیک کردار , تعلیم یافتہ , انقلابی سوچ رکھنے والے نوجوانوں کی, جو صحیح غلط کو سمجھتے ہوئے سرکار کی غلط پالسیوں, اسلام دشمن عناصر سے نپٹنے کے لئے مثبت اقدام اٹھاسکیں . دشمن کو دشمن کی زبان میں جواب دے سکیں. حکمت اور طاقت سے ہر سازش کو ناکام کرسکیں اس کے لئے ہمیں آج سے ابھی سے خود کو اور اپنے دوستوں کو تیار کرنا ہوگا .تاکہ پولس سے لے کر وکالت, آئی پی ایس اور یو پی ایس سی جیسے سیول سروسس میں مسلم نوجوان نمایا مقام حاصل کرسکیں سیاست سے لے کر ہر شعبے ہر میدان میں اپنی پہچان بناتے ہوئے ہر حال میں اپنا لوہا منوا سکیں اور ہمارے اخلاق ہماری کامیابی کو دیکھ کر دشمن بھی اپنا سر جھکانے پہ مجبور ہوجائے –
ہمارے مذہبی لوگ خلوص و لگن سے صرف مسلمانوں کے خلاف لاٹھیاں بھانجتے رہتے ہیں,لیکن جب بات ظلم کے خلاف لڑنے کی آتی ہے تو پر اسرار طور پر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں-
چھوٹے چھوٹے فرعی نزاعات میں سالہا سال کتاب بازیاں ہوتی رہتی ہیں,لیکن وہ مسائل جن سے مسلمانوں کا وجود خطرے میں ہے,اس پر کنڈلی مار کر بیٹھ جاتے ہیں-
وہ کون سی طاقتیں ہیں جنھوں نے مسلم ذہن کو اس قدر پراگندہ,مکار اور سرکش بناڈالا ہے؟
کم از کم اس گناہ کا وبال سنگھ پریوار کے سر نہیں تھوپا جاسکتا-
کیا مسلمانوں کی نئی نسل ان تنازعات سے اوپر اٹھنے کا حوصلہ رکھتی ہے؟
ذاتی طور سے مسلمانوں کا یہ پہلو مجھے مایوس کرتا ہے,تکلیف دیتا ہے!
آئے چشم اشکبار ذرا دیکھ تو سہی
-یہ گھر جو جل رہا ہے کہیں تیرا گھر نہ ہو