مقامی خبریں

بیگوسرائے: زرعی امداد کی منظوری میں بے ضابطگیاں، کسانوں میں شدید غم و غصہ

بیگوسرائے کے سمریہ دھام علاقے میں کسانوں کو زرعی ان پٹ گرانٹ 2026-27 کی منظوری میں درپیش مشکلات نے شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔ ملہی پور جنوبی پنچایت میں 1011 کسانوں کی درخواستوں میں سے صرف دو کو منظور کیا گیا ہے، جبکہ ملہی پور شمالی پنچایت میں ایک بھی درخواست منظور نہیں ہوئی۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کسان پہلے ہی اپنی 700 ایکڑ زمین کی جمع بندی منسوخی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

ملہی پور جنوبی اور شمالی پنچایتوں کی صورتحال

ملہی پور جنوبی پنچایت میں زرعی ان پٹ گرانٹ کے لیے کل 1011 کسانوں نے درخواستیں جمع کرائی تھیں۔ ان میں سے صرف 2 کسانوں کی درخواستیں منظور کی گئیں، جو کہ کل درخواستوں کا ایک بہت ہی معمولی حصہ ہے۔ 452 کسانوں کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں، جبکہ 557 درخواستیں ابھی تک زیر التوا ہیں۔

ملہی پور شمالی پنچایت کی صورتحال مزید تشویشناک ہے۔ یہاں کل 235 کسانوں نے درخواستیں دی تھیں، لیکن ان میں سے ایک بھی درخواست منظور نہیں کی گئی۔ 101 درخواستیں مسترد کر دی گئیں اور 135 درخواستیں زیر التوا ہیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی بے ضابطگیاں ان کے معاشی حالات پر منفی اثر ڈال رہی ہیں اور انہیں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

زمین کی جمع بندی کی منسوخی اور کسانوں کا احتجاج

یہ مسئلہ ملہی پور موضع کے 261 کھاتہ میں آنے والی 890 اور 891 کھیسرا کی 700 ایکڑ زمین کی جمع بندی منسوخی کے بعد سامنے آیا ہے۔ بہار حکومت نے اس زمین کو نِفٹ کالج اور دنکر یونیورسٹی کے قیام کے لیے منظور کیا ہے، جس کی وجہ سے ملہی پور-وشنوپور کے کسان شدید احتجاج کر رہے ہیں۔ کسانوں کا موقف ہے کہ ان کی آبائی زمینوں کو چھین کر انہیں بے دخل کیا جا رہا ہے، اور اب زرعی امداد کی منظوری میں بھی انہیں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

کسانوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف ان کی زمینیں چھینی جا رہی ہیں اور دوسری طرف انہیں حکومت کی طرف سے ملنے والی زرعی امداد سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔ اس دوہری مار نے کسانوں میں بے چینی اور غصہ بڑھا دیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ زرعی ان پٹ گرانٹ کی درخواستوں کی فوری جانچ پڑتال کی جائے اور مستحق کسانوں کو ان کا حق دیا جائے۔

مقامی انتظامیہ اور حکومت کو اس مسئلے پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ کسانوں کے خدشات کو دور کیا جا سکے اور انہیں انصاف فراہم کیا جا سکے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو وہ اپنا احتجاج مزید تیز کریں گے۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button