مظفرپور: صاحب گنج میں کرنٹ لگنے سے لائن مین شدید زخمی، ایس کے ایم سی ایچ ریفر
مظفرپور کے صاحب گنج علاقے میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں بجلی کے تاروں کی مرمت کے دوران ایک لائن مین کرنٹ لگنے سے شدید زخمی ہو گیا۔ یہ واقعہ جمعرات کو گوپالپور گاؤں میں پیش آیا، جس کے بعد زخمی کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق، 30 سالہ مکیش پاسوان، جو وسامبھراپور کے رہائشی ہیں، گوپالپور گاؤں میں بجلی کے کھمبے پر چڑھ کر کام کر رہے تھے۔ اسی دوران وہ اچانک بجلی کے کرنٹ کی زد میں آ گئے اور بری طرح جھلس گئے۔ حادثے کے فوراً بعد وہاں موجود لوگوں نے انہیں کھمبے سے نیچے اتارا اور ابتدائی طبی امداد کے لیے قریبی کمیونٹی ہیلتھ سینٹر (سی ایچ سی) پہنچایا۔
سی ایچ سی میں ڈاکٹروں نے مکیش پاسوان کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور ان کی حالت کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے انہیں مظفرپور کے شری کرشنا میڈیکل کالج اور ہسپتال (ایس کے ایم سی ایچ) ریفر کر دیا۔ ایس کے ایم سی ایچ میں ان کا علاج جاری ہے اور ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
اہل خانہ نے بتایا کہ مکیش اپنے روزمرہ کے کام کے سلسلے میں بجلی کے کھمبے پر چڑھے ہوئے تھے جب یہ حادثہ پیش آیا۔ ان کے مطابق، کام کے دوران اچانک بجلی کی سپلائی بحال ہو گئی یا کسی تکنیکی خرابی کی وجہ سے وہ کرنٹ کی زد میں آ گئے۔ اس واقعے نے علاقے میں بجلی کے کام کے دوران حفاظتی اقدامات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
مقامی انتظامیہ اور بجلی کے محکمے سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کریں اور لائن مینوں کو کام کے دوران مکمل حفاظتی سامان فراہم کریں۔ اس طرح کے واقعات نہ صرف کارکنوں کی جان کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ ان کے اہل خانہ کے لیے بھی شدید پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔ مکیش کے اہل خانہ اس وقت شدید صدمے میں ہیں اور ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بجلی کے کام میں کتنے خطرات پوشیدہ ہوتے ہیں اور حفاظتی پروٹوکولز کی سختی سے پابندی کتنی ضروری ہے۔ امید ہے کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور مستقبل میں ایسے حادثات سے بچنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
