مقامی خبریں

مظفرپور میں کاریگر کی کرنٹ لگنے سے موت، پوسٹ مارٹم پر شدید ہنگامہ آرائی

مظفرپور: شہر میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا جہاں کرنٹ لگنے سے ایک کاریگر کی موت واقع ہو گئی۔ اس واقعے کے بعد مقامی ہسپتال میں پوسٹ مارٹم کے عمل کے دوران شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی، جس نے انتظامیہ کے لیے مشکلات کھڑی کر دیں۔

تفصیلات کے مطابق، یہ افسوسناک واقعہ مظفرپور کے ایک علاقے میں پیش آیا جب ایک کاریگر اپنے روزمرہ کے کام میں مصروف تھا کہ اچانک اسے بجلی کا شدید جھٹکا لگا۔ کرنٹ لگنے کے بعد کاریگر موقع پر ہی بے ہوش ہو گیا، اور جب تک اسے طبی امداد کے لیے ہسپتال پہنچایا جاتا، وہ اپنی جان کی بازی ہار چکا تھا۔

کاریگر کی موت کی خبر سنتے ہی اس کے اہل خانہ اور علاقے کے لوگ بڑی تعداد میں ہسپتال پہنچ گئے۔ غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور لوگوں نے ہسپتال انتظامیہ پر لاپرواہی کا الزام لگاتے ہوئے احتجاج شروع کر دیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ کاریگر کی موت کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

پوسٹ مارٹم کے عمل کے دوران صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی جب لواحقین نے ہسپتال کے عملے کے رویے پر اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم میں تاخیر کی جا رہی ہے اور انہیں مناسب معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ اس دوران ہسپتال کے احاطے میں نعرے بازی بھی کی گئی اور کچھ لوگوں نے ہسپتال کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی، جسے پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے روکا۔

مقامی پولیس نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کو قابو میں کرنے کی کوشش کی۔ پولیس افسران نے لواحقین سے بات چیت کی اور انہیں یقین دلایا کہ معاملے کی مکمل چھان بین کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ آنے کے بعد ہی موت کی اصل وجہ سامنے آ سکے گی اور اس کے مطابق قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

یہ واقعہ مظفرپور میں بجلی کے حفاظتی اقدامات پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ مقامی شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کے نظام کو بہتر بنایا جائے اور ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے دلخراش واقعات سے بچا جا سکے۔ کاریگر کے اہل خانہ کا غم سے برا حال ہے اور وہ انصاف کے منتظر ہیں۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button