مقامی خبریں

مظفرپور میں شہری ترقی کا نیا دور: 15 سے 20 نئے وارڈز کا اضافہ متوقع

مظفرپور شہر کے لیے ایک بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے، جہاں شہری ترقی اور توسیع کے ایک نئے منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے۔ محکمہ شہری ترقی و رہائش نے مظفرپور میونسپل کارپوریشن کی توسیع کے لیے 30 اگست تک ایک نیا مسودہ طلب کیا ہے۔ اس اقدام سے شہر میں 15 سے 20 نئے وارڈز کا اضافہ متوقع ہے، جو مظفرپور کو ایک وسیع تر اور جدید شہر بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہوگا۔

18 سال بعد دوبارہ رفتار

یہ پیش رفت تقریباً 18 سال بعد ہوئی ہے جب مظفرپور شہر کی توسیع کی کوششوں کو دوبارہ رفتار ملی ہے۔ اس سے قبل، مردم شماری کے کام کی وجہ سے اس منصوبے کو روک دیا گیا تھا، لیکن اب محکمہ کے پرنسپل سیکرٹری ونے کمار کی جانب سے جاری کردہ خط کے بعد، ضلع مجسٹریٹ کے ذریعے ‘گریٹر مظفرپور’ کا نیا مسودہ بھیجا جا سکے گا۔ یہ منصوبہ شہر کے آس پاس کی 16 پنچایتوں کی تقدیر بدلنے کا ایک اور موقع فراہم کرے گا۔

16 پنچایتوں کے 47 گاؤں شامل

میونسپل کارپوریشن اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تیار کردہ ‘گریٹر مظفرپور’ کے خاکے میں 16 پنچایتوں کے کل 47 گاؤں کو شامل کرنے کی تجویز ہے۔ ان میں مشہری بلاک کی 11 پنچایتیں اور کانٹی و مڑون بلاک کی 5 پنچایتیں شامل ہیں۔

  • مغربی علاقے کے اہم علاقے: پیغبرپور کولہوا، سادات پور، بیریہ، دامودرپور، چکمُرمُر، فتح پور، مصطفیٰ پور، چین پور (جزوی حصے) اور سکندرپور، چک غازی، اہیاپور، شیخ پور، ناظرپور (مکمل حصے)۔
  • مشہری بلاک: شہبازپور، شیخ پور، کنہولی، کھبرا، مجھولی کھیتل، بھگوان پور، شیرپور، سُستا، روہوا، بڑا جگن ناتھ اور پتاہی۔
  • کانٹی/مڑون بلاک: شبھنکرپور، دادَر کولہوا، پیغبرپور کولہوا، سادات پور اور دامودرپور۔

شہری حدود میں نمایاں اضافہ

فی الحال، مظفرپور میونسپل کارپوریشن کا کل رقبہ 32 مربع کلومیٹر ہے جس میں 49 وارڈز ہیں۔ نئے توسیع کے مسودے میں 21 مربع کلومیٹر کا اضافی رقبہ شامل کیا گیا ہے۔ اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے، تو میونسپل کارپوریشن کا دائرہ بڑھ کر 53 مربع کلومیٹر ہو جائے گا، جس سے شہر کا رقبہ کافی وسیع ہو جائے گا۔

انفراسٹرکچر اور معاشی فوائد

اس توسیع سے شہر کے قریبی علاقوں کی تصویر مکمل طور پر بدل جائے گی۔ ان پنچایتوں میں تیزی سے رہائشی کالونیاں تو بن رہی ہیں، لیکن بڑے تجارتی کمپلیکس اور بازاروں کی کمی ہے۔ میونسپل کارپوریشن میں شامل ہوتے ہی ان علاقوں کا بنیادی ڈھانچہ (انفراسٹرکچر) مضبوط ہوگا۔ ہر جگہ پکی سڑکیں اور نکاسی آب کے لیے نالے بنائے جائیں گے۔

اس کے علاوہ، زمینوں کی سرکاری اور بازاری قیمتیں بڑھیں گی، جس سے حکومت کے ساتھ ساتھ زمین مالکان کو بھی زیادہ فائدہ ہوگا۔ رہائشی مکانوں کا کرایہ بڑھے گا اور لوگوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ بینکوں کی نئی شاخیں، بڑے اسکول اور جدید ہسپتالوں کی سہولیات ان علاقوں میں آسانی سے دستیاب ہو سکیں گی۔ شہبازپور کو چھوڑ کر مشہری انچل کی جن دیگر پنچایتوں میں تجارتی بازاروں کی کمی تھی، وہ اس توسیع کے بعد پوری ہو جائے گی، جس سے ان علاقوں سے متصل دیگر دیہی پنچایتوں کی ترقی بھی تیزی سے ہوگی۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button