مظفرپور: 48 پنچایتوں میں ‘تعاون کیمپ’ کا انعقاد، ہزاروں مسائل کا فوری حل
مظفرپور، بہار: مظفرپور ضلع کے 16 بلاکس کی 48 منتخب پنچایتوں میں منگل کو ‘تعاون کیمپ’ لگائے گئے، جہاں عوام کو درپیش مسائل کا موقع پر ہی حل کیا گیا۔ ان کیمپوں میں سرکاری اسکیموں سے فائدہ اٹھانے کے لیے لوگوں کا ہجوم امڈ آیا۔ ضلع انتظامیہ کی جانب سے منعقد کیے گئے ان کیمپوں کا مقصد دیہی علاقوں میں حکومتی خدمات کو عوام کی دہلیز تک پہنچانا اور ان کے مسائل کو فوری طور پر حل کرنا تھا۔
موتی پور بلاک میں ہرپور، ہردی اور رامپور بھیڑیاہی پنچایتوں میں کیمپ لگائے گئے۔ ان کیمپوں میں بڑی تعداد میں دیہی باشندوں نے اپنی شکایات اور مطالبات سے متعلق درخواستیں پیش کیں۔ ان کیمپوں کا افتتاح ڈپٹی ڈویلپمنٹ کمشنر (DDC) نشانت سہارا، بلاک ڈویلپمنٹ آفیسر (BDO) اروند کمار گپتا، ڈسٹرکٹ پبلک ریلیشنز آفیسر (DPRO) وکاس کمار اور مقامی مکھیا پرتیما کماری نے کیا۔ اس موقع پر ڈی ڈی سی نے مختلف اسٹالز کا معائنہ کیا اور کتھیا گاؤں کے کھیل کے میدان کے بیرونی حصے میں پودے بھی لگائے گئے۔
کانٹی بلاک کی شیروکاہی، پاناپور اور پپراہاں اصلی پنچایتوں میں بھی کیمپ منعقد ہوئے۔ یہاں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (ADM) سنجے کمار، پرمکھ کرپاشنکر شاہی، بی ڈی او کشن چندرائن، اور مکھیا سنگیتا کماری اور کرن کماری موجود تھیں۔ کڑھنی بلاک کی رجلا پنچایت میں لگے کیمپ کا افتتاح بی ڈی او ڈاکٹر نیرج کمار اور مکھیا نے کیا۔ اس کیمپ میں کل 59 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے زیادہ تر کو موقع پر ہی حل کر دیا گیا۔
اورائی بلاک کی دھرہروا، گھنشیام پور اور نیاگاؤں پنچایتوں میں منعقدہ کیمپوں میں 101 درخواستیں آئیں، جن میں سے بیشتر کا حل نکالا گیا۔ گائے گھاٹ کی تین پنچایتوں میں بھی تعاون کیمپ منعقد ہوئے، جہاں کل 386 درخواستیں موصول ہوئیں اور 298 درخواستوں کا موقع پر ہی نمٹارہ کر دیا گیا۔ صاحب گنج بلاک کی گلاب پٹی پنچایت کے ہمت پٹی کمیونٹی ہال میں لگے کیمپ میں بی ڈی او مینو کماری نے کئی مسائل کا فوری حل کیا۔ یہاں کل 146 درخواستیں موصول ہوئیں اور مکھیا سنجو کماری نے کیمپ کی صدارت کی۔
بوچاہاں بلاک کی تین پنچایتوں کرن پور جنوبی، کرن پور شمالی اور گڑہاں میں بھی کیمپوں کا اہتمام کیا گیا۔ کرن پور جنوبی میں کبیر انتیشٹی یوجنا کے تحت پھول کماری دیوی، رینا دیوی اور سمندری دیوی کو تین تین ہزار روپے کے چیک دیے گئے، جبکہ 20 افراد کو پیدائش اور موت کے سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے۔ گڑہاں پنچایت کے کیمپ میں پہنچی ایک خاتون کامائنی دیوی نے 40,000 روپے کے بجلی کے بل کا مسئلہ اٹھایا، جس پر حکام نے فوری توجہ دی۔ ان کیمپوں کے ذریعے ہزاروں دیہی باشندوں کو سرکاری خدمات تک رسائی حاصل ہوئی اور ان کے دیرینہ مسائل کا حل ممکن ہوا۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
