مقامی خبریں

مظفرپور میں پیاس کا بحران: پمپ خراب ہونے سے ایک درجن محلوں میں پانی کی قلت

شہر کے کئی علاقوں میں پانی کی بوند بوند کو ترس رہے لوگ

مظفرپور میں شدید گرمی کے قہر کے درمیان شہر کے تقریباً ایک درجن محلوں میں پینے کے پانی کا سنگین بحران پیدا ہو گیا ہے۔ سکندرپور، بالو گھاٹ، انوپم کیمپس، اکھاڑا گھاٹ، کالی مندر روڈ، رانی ستی مندر روڈ اور رام گڑھ چوک سمیت کئی علاقوں کے مکین گزشتہ کئی دنوں سے پانی کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس بحران کی بنیادی وجہ اکھاڑا گھاٹ پمپ ہاؤس میں نصب 50 ہارس پاور کے بڑے پمپ کا اچانک خراب ہو جانا ہے۔

تقریباً 20 ہزار کی آبادی متاثر

اس تکنیکی خرابی کے باعث تقریباً 20 ہزار کی آبادی کی روزمرہ کی زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پمپ کے مکمل طور پر بند ہونے سے پہلے دو دنوں تک نلکوں سے گندہ پانی آتا رہا، جس کے بعد پانی کی سپلائی مکمل طور پر ٹھپ ہو گئی۔ یہ پمپ ایک دہائی سے زیادہ پرانا ہے، جس کی وجہ سے اس میں آئے دن تکنیکی خرابیاں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس پمپ کو تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی دو سال قبل کی گئی تھی، لیکن جگہ کے تنازعہ اور انتظامی لاپرواہی کے سبب یہ منصوبہ آج تک کاغذوں تک ہی محدود ہے۔

انتظامیہ کی ناکامی اور عوام کی پریشانی

وارڈ نمبر 14 کے کونسلر امت رنجن کے مطابق، میونسپل کارپوریشن کی ٹیم کو اطلاع دی گئی تھی اور ٹیم موقع پر پہنچی بھی، لیکن اب تک مسئلہ حل نہیں ہو سکا۔ تکنیکی ماہرین کا ماننا ہے کہ پمپ کھولنے کے بعد ہی اصل خرابی کا پتہ چلے گا، تاہم ابتدائی طور پر پائپ یا شافٹ ٹوٹنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

متبادل انتظام بھی ناکافی

دوسری جانب وارڈ نمبر 12 کے سنگم چوک کے قریب بھی پانچ ہارس پاور کا سبمرسیبل پمپ خراب ہونے سے پانی کی سپلائی بند ہے۔ یہاں صورتحال اتنی سنگین ہے کہ مقامی کونسلر ممتا کماری کو اپنے ذاتی سبمرسیبل سے لوگوں کو پانی فراہم کرنا پڑا۔ بعد ازاں میونسپل کارپوریشن کے ٹینکر کے ذریعے پانی پہنچانے کی کوشش کی گئی، لیکن آبادی کے مقابلے میں یہ انتظام ناکافی ثابت ہو رہا ہے۔ شہری اب بھی اپنی بنیادی ضرورت کے لیے پانی کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں اور انتظامیہ سے فوری بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button