پرشاد ہسپتال سانحہ: ‘ہمیں قربانی کا بکرا بنایا گیا’، ضمانت پر رہا ملازمین کا سنگین الزام
پرشاد ہسپتال سانحہ: انتظامیہ کے خلاف ملازمین کی بغاوت
مظفرپور کے پرشاد ہسپتال میں پیش آئے المناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد اب ایک نیا موڑ سامنے آیا ہے۔ اس معاملے میں گرفتار ہونے کے بعد ضمانت پر رہا ہونے والے تین افراد، جن میں ڈاکٹر اور ہسپتال کا عملہ شامل ہے، نے ہسپتال کی انتظامیہ اور مالکان پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں اس پورے معاملے میں جان بوجھ کر پھنسایا گیا ہے تاکہ اصل ذمہ داروں کو بچایا جا سکے۔
آئی سی یو انچارج ڈاکٹر پنکج کمار، مینٹیننس ایڈمن رام کمار اور بلڈنگ انچارج اجیت کمار کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک بیان نے مقامی سطح پر ہلچل مچا دی ہے۔ ان ملازمین کا دعویٰ ہے کہ ہسپتال کے حفاظتی انتظامات، آگ بجھانے کے آلات کی تنصیب اور دیگر اہم انتظامی فیصلے براہ راست ہسپتال کے مالکان اور اعلیٰ انتظامیہ کی نگرانی میں لیے جاتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک وہ کام کر رہے تھے، انہوں نے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں، لیکن حادثے کے بعد تمام تر ملبہ ان پر ڈال کر انہیں ‘قربانی کا بکرا’ بنا دیا گیا ہے۔
ملازمین کے مطابق، ہسپتال کے آپریشنل معاملات میں ان کا کردار محدود تھا اور پالیسی سازی کے فیصلے انتظامیہ کرتی تھی۔ ان کا سوال ہے کہ اگر حفاظتی معیارات میں کوتاہی برتی گئی تھی تو اس کے لیے صرف نچلی سطح کے ملازمین کو ہی کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟
دوسری جانب، برہم پورہ تھانہ کے ایس ایچ او وپن رنجن نے قانونی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ عدالت نے ان تینوں افراد کو ضمانت دیتے ہوئے سخت شرائط عائد کی ہیں۔ عدالت کے حکم کے مطابق، جب تک اس معاملے کی تفتیش مکمل نہیں ہو جاتی، یہ تینوں افراد ضلع چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتے۔ انہیں ہر حال میں تفتیشی عمل میں پولیس کا مکمل تعاون کرنا ہوگا۔
یہ معاملہ اب ایک قانونی جنگ کی شکل اختیار کر چکا ہے جہاں ایک طرف انتظامیہ کی خاموشی ہے اور دوسری طرف ملازمین کے الزامات۔ مقامی عوام اس پورے واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ اصل ذمہ دار کون ہے اور کیا واقعی ملازمین کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔