مقامی خبریں

مظفرپور میں وارداتوں کا نیا انداز: گاڑی سے تیل لیک ہونے کا جھانسہ دے کر اسلحہ اور نقدی پر ہاتھ صاف

شہر میں جرائم پیشہ عناصر کا نیا طریقہ واردات

مظفرپور میں چوری اور لوٹ مار کے واقعات میں ملوث گروہ نے اب ایک نیا اور خطرناک طریقہ کار اپنا لیا ہے۔ شہر کی مصروف سڑکوں پر یہ گروہ گاڑی مالکان کو گاڑی سے موبل آئل یا تیل لیک ہونے کا جھانسہ دے کر روکتے ہیں اور پھر موقع ملتے ہی قیمتی سامان پر ہاتھ صاف کر دیتے ہیں۔ حال ہی میں پیش آنے والے دو الگ الگ واقعات نے شہریوں میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔

رکن اسمبلی کے رشتہ دار کی پستول غائب

تازہ ترین واقعہ میں ایک مقامی رکن اسمبلی کے رشتہ دار کو نشانہ بنایا گیا۔ متاثرہ شخص اپنی گاڑی میں سفر کر رہے تھے کہ نامعلوم افراد نے انہیں اشارہ کر کے بتایا کہ گاڑی سے تیل بہہ رہا ہے۔ جیسے ہی وہ گاڑی سے اتر کر نیچے جھکے، موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملزمان نے گاڑی میں رکھی ان کی لائسنس یافتہ پستول چوری کر لی۔ واردات اتنی تیزی سے انجام دی گئی کہ متاثرہ شخص کو کچھ سمجھ ہی نہیں آیا۔

ریٹائرڈ سول سرجن بھی بنی شکار

اسی طرح کا ایک اور واقعہ ایک ریٹائرڈ خاتون سول سرجن کے ساتھ پیش آیا۔ انہیں بھی اسی طرح گاڑی سے تیل لیک ہونے کا جھانسہ دے کر روکا گیا۔ جب وہ گاڑی کے قریب پہنچیں تو ملزمان نے ان کا دھیان بٹا کر نقدی اور دیگر قیمتی سامان اڑا لیا۔ یہ دونوں واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ شہر میں ایک منظم گروہ سرگرم ہے جو خاص طور پر گاڑیوں کو ہدف بنا رہا ہے۔

پولیس کی جانب سے احتیاطی تدابیر

واقعات کے بعد پولیس نے تفتیش شروع کر دی ہے اور آس پاس لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کو کھنگالا جا رہا ہے۔ پولیس حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر کوئی اجنبی شخص انہیں گاڑی میں کسی تکنیکی خرابی کے بارے میں بتائے تو فوراً گاڑی سے نہ اتریں اور نہ ہی گاڑی کو سنسان جگہ پر روکیں۔ اگر گاڑی میں کوئی مسئلہ محسوس ہو تو اسے کسی مستند ورکشاپ یا ہجوم والی جگہ پر ہی چیک کریں۔

شہر میں بڑھتی ہوئی ان وارداتوں نے پولیس کی کارکردگی پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ عوام مطالبہ کر رہے ہیں کہ گشت میں اضافہ کیا جائے تاکہ اس طرح کے گروہوں کا قلع قمع کیا جا سکے۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button