مظفرپور: بابا غریب ناتھ دھام کو سیاحتی مرکز بنانے کا منصوبہ، وزیر سیاحت کا معائنہ
بہار کے وزیر سیاحت کیدار پرساد گپتا نے مظفرپور میں واقع بابا غریب ناتھ دھام کو ایک اہم سیاحتی مقام کے طور پر فروغ دینے کے لیے جاری منصوبوں کا ہفتے کے روز معائنہ کیا۔ اس دورے کا مقصد ترقیاتی کاموں کا جائزہ لینا اور مستقبل کے اقدامات کی منصوبہ بندی کرنا تھا تاکہ اس مذہبی مقام کو ملکی اور غیر ملکی زائرین کے لیے مزید پرکشش بنایا جا سکے۔
وزیر موصوف نے ویشالی اور مظفرپور کی سرحد پر فکولی کے قریب مجوزہ مرکزی دروازے کا خاص طور پر معائنہ کیا۔ یہ دروازہ دھام میں داخلے کا ایک شاندار اور دیدہ زیب نقطہ ہو گا، جو زائرین کو ایک منفرد تجربہ فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے رجلا کے علاقے میں بھی انتظامات کا جائزہ لیا، جہاں عقیدت مندوں اور سیاحوں کی سہولت کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے۔
کوریڈور اور جدید سہولیات کا قیام
وزیر سیاحت نے بتایا کہ بابا غریب ناتھ دھام کے گرد ایک وسیع کوریڈور تیار کیا جائے گا۔ اس کوریڈور میں درج ذیل اہم خصوصیات شامل ہوں گی:
- ویشالی-مظفرپور سرحد پر ایک عظیم الشان تو رن دوار کی تعمیر، جو دھام کا مرکزی داخلی دروازہ ہوگا۔
- رجلا کے علاقے میں زائرین اور سیاحوں کے لیے خصوصی سہولیات کا انتظام۔
- شیوالیہ مندر کمپلیکس میں واقع تالاب اور گھاٹ کی خوبصورتی میں اضافہ۔
- تالاب میں بھگوان نارائن-لکشمی کے مجسموں کی تنصیب۔
- ملک اور بیرون ملک سے آنے والے زائرین کے لیے گیسٹ ہاؤسز سمیت جدید رہائشی سہولیات کی تعمیر۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان منصوبوں کی تکمیل سے نہ صرف مذہبی سیاحت کو فروغ ملے گا بلکہ مقامی آبادی کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ یہ ترقیاتی کام علاقے کی معیشت کو بھی مضبوط کریں گے۔
اس معائنے کے دوران مقامی عوامی نمائندے اور محکمہ سیاحت کے اعلیٰ افسران بھی وزیر موصوف کے ہمراہ تھے۔ انہوں نے منصوبوں کی پیشرفت اور عمل درآمد کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ وزیر نے یقین دلایا کہ حکومت اس منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ بابا غریب ناتھ دھام کو ایک عالمی معیار کے سیاحتی مقام میں تبدیل کیا جا سکے۔ یہ اقدامات مظفرپور کو بہار کے سیاحتی نقشے پر ایک نمایاں مقام دلانے میں معاون ثابت ہوں گے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
