مقامی خبریں

مظفرپور ہسپتال آتشزدگی: ڈاکٹر سمیت 3 افراد گرفتار، ہلاکتوں کی تعداد 6 تک پہنچی

مظفرپور کے پرشاد ہسپتال میں قیامت خیز آگ، انتظامیہ کی لاپرواہی کا انکشاف

مظفرپور کے برہم پورہ علاقے میں واقع پرشاد ہسپتال کے آئی سی یو (ICU) میں پیش آئے ہولناک آتشزدگی کے واقعے نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا ہے۔ اس المناک حادثے میں اب تک 6 افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ 17 دیگر زخمیوں کا مختلف ہسپتالوں میں علاج جاری ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ زخمیوں کی تشویشناک حالت کے پیش نظر ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

پولیس کی سخت کارروائی، ذمہ داران کی گرفتاری

پولیس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ہسپتال انتظامیہ کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات اور پوچھ گچھ کے بعد پولیس نے تین اہم ذمہ داران کو گرفتار کیا ہے، جن میں آئی سی یو انچارج ڈاکٹر پنکج، ایڈمن مینیجر رام کمار اور مینٹیننس مینیجر اجیت کمار شامل ہیں۔ حکام کے مطابق، یہ گرفتاریاں ہسپتال میں حفاظتی انتظامات میں مجرمانہ غفلت برتنے کے الزام میں عمل میں لائی گئی ہیں۔

فرار ملزمان کی تلاش جاری

واقعے کے بعد سے ہسپتال کے مالک ڈاکٹر اوپیندر پرساد اور ان کے اہل خانہ سمیت کئی دیگر افراد مفرور ہیں۔ پولیس کی خصوصی ٹیمیں ان کی گرفتاری کے لیے مسلسل چھاپے مار رہی ہیں۔ ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہسپتال میں آگ سے بچاؤ کے حفاظتی معیارات کو نظر انداز کیا گیا تھا، جس کی ذمہ داری براہ راست انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔

حکومتی سطح پر سخت ردعمل

صوبائی وزیر صحت نے اس واقعے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی قصوروار کو بخشا نہیں جائے گا۔ فائر آفیسر آر این پانڈے کے بیان پر برہم پورہ تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور تفتیش کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا ہے۔ شہر کے سٹی ایس پی کا کہنا ہے کہ پولیس ہر پہلو سے معاملے کی جانچ کر رہی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا سدباب کیا جا سکے۔

اس حادثے نے ہسپتالوں میں مریضوں کی حفاظت اور آگ سے بچاؤ کے انتظامات پر کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مقامی لوگ اب انصاف کے منتظر ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس سانحے کے ذمہ داران کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button