مظفرپور ہسپتال آتشزدگی: وزیر صحت کا سخت موقف، کہا- قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا
مظفرپور سانحہ: حکومت کی جانب سے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل
مظفرپور کے ایک نجی ہسپتال میں پیش آئے المناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد، جس میں چھ مریضوں کی جانیں ضائع ہوئیں، ریاستی وزیر صحت نے خاموشی توڑتے ہوئے سخت کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ جمعرات کو میڈیا کے سوالات سے کنارہ کشی اختیار کرنے والے وزیر صحت نے جمعہ کو اس معاملے پر کھل کر بات کی اور یقین دلایا کہ اس سانحے کے ذمہ داران کو کسی بھی صورت میں معاف نہیں کیا جائے گا۔
تحقیقات اور قانونی کارروائی
حکومت نے اس واقعے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا ہے۔ ترہت کمشنر گریور دیال سنگھ کی ہدایت پر ہسپتال کے مالک اور انتظامیہ کے خلاف برہم پورہ تھانے میں ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، مظفرپور کے ڈی ایم سبرت کمار سین نے پانچ رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ہے جو آگ لگنے کی وجوہات اور ہسپتال کی انتظامی غفلت کا باریکی سے جائزہ لے گی۔ محکمہ صحت نے ڈی ایم اور سول سرجن سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
متاثرین کی مدد اور فائر سیفٹی آڈٹ
وزیر صحت نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو چار چار لاکھ روپے کا معاوضہ فراہم کر دیا گیا ہے۔ فی الحال 14 زخمیوں کا علاج مظفرپور کے مختلف ہسپتالوں میں جبکہ تین مریضوں کا علاج پٹنہ میں جاری ہے۔ حکومت نے ان کے علاج کے لیے بہترین انتظامات کی ہدایت دی ہے۔
حکومت نے مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ریاست بھر کے تمام ہسپتالوں کا فائر سیفٹی آڈٹ کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر صحت نے واضح کیا کہ جہاں بھی حفاظتی انتظامات میں کمی پائی جائے گی، اسے فوری طور پر درست کیا جائے گا۔
سیاسی تناظر
جمعرات کو میڈیا سے دوری اختیار کرنے پر وزیر صحت کو اپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اور ان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ تاہم، جمعہ کو انہوں نے خود اس معاملے کی نگرانی اپنے ہاتھوں میں لے کر یہ پیغام دیا ہے کہ حکومت اس سانحے پر پوری طرح متحرک ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔