مظفرپور: سپاہی بھرتی امتحان میں ہائی ٹیک نقل کا پردہ فاش، بلوٹوتھ کے ساتھ 3 امیدوار گرفتار
امتحان میں کامیابی کے لیے شارٹ کٹ کا سہارا
مظفرپور میں اتوار کے روز منعقدہ سپاہی بھرتی امتحان کے دوران نقل کا ایک ایسا معاملہ سامنے آیا ہے جس نے انتظامیہ کو چونکا دیا ہے۔ امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے امیدواروں نے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیا، لیکن مستعد نگرانی کی وجہ سے ان کا منصوبہ ناکام ہو گیا۔ پولیس نے اس معاملے میں تین امیدواروں کو حراست میں لیا ہے، جو آپس میں مل کر نقل کا نیٹ ورک چلا رہے تھے۔
مشکوک حرکات سے کھلا راز
پولیس کے مطابق، پہلا معاملہ متھن پورہ تھانہ علاقہ کے چیپمین امتحان مرکز پر پیش آیا۔ یہاں بھوجپور کا رہائشی پنکج کمار امتحان دے رہا تھا۔ دورانِ امتحان اس کی بار بار اپنی بازو کو کان کے قریب لے جانے کی حرکت پر نگران عملے کو شک ہوا۔ جب اس کی تلاشی لی گئی تو اس کی بازو پر چپکایا ہوا ایک چھوٹا بلوٹوتھ ایئر بڈ برآمد ہوا۔ پوچھ گچھ کے دوران پنکج نے اعتراف کیا کہ وہ اپنے ساتھی پرکاش کمار کی مدد سے نقل کر رہا تھا، جو باہر بیٹھ کر اسے جوابات فراہم کر رہا تھا۔
نیٹ ورک کا جال اور گرفتاری
پنکج کی نشاندہی پر پولیس نے سکندر پور کے رادھا دیوی کیڈیا امتحان مرکز پر چھاپہ مار کر پرکاش کو بھی گرفتار کر لیا۔ ان دونوں سے تفتیش کے دوران ایک تیسرے ساتھی کا نام سامنے آیا جو بہٹا میں امتحان دے رہا تھا۔ مظفرپور پولیس نے فوری طور پر بہٹا پولیس کو مطلع کیا، جس کے بعد وہاں بھی کارروائی کرتے ہوئے تیسرے امیدوار کو دھر لیا گیا۔
منصوبہ بندی اور آلات کی خریداری
ابتدائی تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ ان امیدواروں نے امتحان پاس کرنے کے لیے ایک باقاعدہ منصوبہ بنایا تھا۔ طے یہ پایا تھا کہ ایک امیدوار اندر سے سوالات باہر بھیجے گا اور دوسرا انٹرنیٹ کی مدد سے جوابات تلاش کر کے بلوٹوتھ کے ذریعے بتائے گا۔ انہوں نے یہ جدید بلوٹوتھ ڈیوائس 15 ہزار روپے میں خریدی تھی۔ سٹی ایس پی محب اللہ انصاری نے بتایا کہ فی الحال یہ تینوں کی آپسی ملی بھگت کا معاملہ لگ رہا ہے، تاہم اس بات کی بھی جانچ کی جا رہی ہے کہ کیا اس کے پیچھے کوئی بڑا گروہ تو نہیں ہے۔ پولیس اب ان لوگوں کی تلاش کر رہی ہے جنہوں نے انہیں یہ آلات فراہم کیے تھے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔