مظفرپور میں غیر قانونی ہسپتالوں کے خلاف مہم ٹھپ: کیا کسی بڑے دباؤ کے آگے انتظامیہ نے گھٹنے ٹیک دیے؟
مظفرپور میں صحت کے نام پر کھلواڑ، کارروائی کیوں رکی؟
مظفرپور میں پرساد ہسپتال کے المناک حادثے کے بعد شہر بھر میں غیر قانونی اور غیر معیاری نرسنگ ہومز کے خلاف شروع ہونے والی مہم محض دو دن میں ہی دم توڑ گئی ہے۔ اس کارروائی کے دوران انتظامیہ نے 25 ہسپتالوں کو سیل کر کے یہ امید جگائی تھی کہ اب شہر میں صحت کے نام پر چلنے والی دکانوں کا خاتمہ ہوگا، لیکن پانچ دن گزر جانے کے بعد بھی یہ مہم مکمل طور پر بند پڑی ہے۔
انتظامیہ کی خاموشی اور سوالات
شہر کے ایک بڑے حصے میں ابھی تک جانچ کا عمل شروع بھی نہیں ہو سکا ہے، جس سے انتظامیہ کی نیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایس کے ایم سی ایچ (SKMCH) کے آس پاس کے علاقوں میں کارروائی کے بعد اچانک خاموشی چھا جانا کئی شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔ کیا یہ مہم کسی سیاسی دباؤ یا اثر و رسوخ کے تحت روکی گئی ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو آج ہر عام شہری کی زبان پر ہے۔
شہر کے دیگر علاقوں میں اب بھی خطرہ برقرار
اگرچہ ایس ڈی او مشرقی تشار کمار کا کہنا ہے کہ سیل کیے گئے ہسپتالوں کے کاغذات کی جانچ اور پیمائش کا کام جاری ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ باقی شہر کا کیا؟ جوران چھپرا، املی چٹی، برہم پورہ، کلم باغ چوک، ماڑی پور اور کھادی بھنڈار روڈ جیسے گنجان آباد علاقوں میں آج بھی درجنوں ایسے نرسنگ ہومز بغیر کسی ضابطے کے چل رہے ہیں۔ ان ہسپتالوں میں نہ صرف مریضوں کا استحصال ہو رہا ہے بلکہ ان کی جانیں بھی خطرے میں ہیں۔
مستقبل کا لائحہ عمل کیا ہوگا؟
جانچ رکنے کے بعد ان غیر قانونی ہسپتالوں میں مریضوں کی بھیڑ دوبارہ بڑھ گئی ہے، گویا کسی کو کسی کا ڈر نہیں رہا۔ انتظامیہ کی جانب سے صرف چند ہسپتالوں کو سیل کر کے مہم کو ٹھنڈا کر دینا اس بات کی علامت ہے کہ شاید یہ کارروائی صرف خانہ پوری تک محدود تھی۔ عوام اب یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ شہر بھر میں پھیلے ان غیر معیاری مراکز کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے اور اس مہم کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ اگر انتظامیہ نے جلد ہی اس پر دوبارہ قدم نہیں اٹھایا، تو کسی اور بڑے حادثے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔