مظفرپور کے کسان لگن دیو رائے: ‘پاگل’ کہلانے سے ‘ماسٹر ٹرینر’ بننے تک کا سفر
کھیتی میں انقلاب: روایتی طریقوں کو خیرباد کہہ کر کامیابی کی نئی داستان
مظفرپور کے مڑون بلاک کے بگاہی گاؤں کے رہنے والے کسان لگن دیو رائے آج ضلع بھر کے لیے ایک مثال بن چکے ہیں۔ کبھی جنہیں قدرتی کھیتی کرنے پر گاؤں والوں اور خاندان کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور ‘پاگل’ تک کہا گیا، آج وہی کسان قدرتی کھیتی کے ‘ماسٹر ٹرینر’ کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
جدوجہد اور صبر کی کہانی
لگن دیو رائے نے تقریباً 15 سال قبل کیمیائی کھادوں اور زہریلی ادویات سے پاک کھیتی کا فیصلہ کیا تھا۔ اس وقت یہ تصور کرنا مشکل تھا کہ بغیر کیمیکل کے فصل کیسے اگائی جا سکتی ہے۔ ابتدائی دو سے تین سال انتہائی مشکل رہے، جہاں پیداوار میں کمی نے انہیں مایوس بھی کیا، لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنے تجربات جاری رکھے۔
لاگت میں کمی، منافع میں اضافہ
لگن دیو رائے کے مطابق، قدرتی کھیتی کا سب سے بڑا فائدہ لاگت میں نمایاں کمی ہے۔ جہاں ایک ایکڑ دھان کی روایتی کھیتی میں 3 سے 5 ہزار روپے خرچ ہوتے ہیں، وہیں قدرتی طریقے سے یہ لاگت محض 400 سے 500 روپے تک محدود ہو جاتی ہے۔ اگرچہ پیداوار میں معمولی فرق ضرور ہے، لیکن مٹی کی زرخیزی میں بہتری اور زہریلے اثرات سے پاک فصل نے اسے زیادہ پائیدار بنا دیا ہے۔
ماسٹر ٹرینر کے طور پر نئی ذمہ داری
ان کی محنت کو دیکھتے ہوئے محکمہ زراعت نے انہیں ‘نیشنل مشن آن نیچرل فارمنگ’ (NMNF) کے تحت ماسٹر ٹرینر مقرر کیا ہے۔ اب وہ دیگر کسانوں کو سکھا رہے ہیں کہ کس طرح گھر پر تیار کردہ کھادوں اور جیو گھول کے ذریعے کھیتی کو منافع بخش بنایا جا سکتا ہے۔ کرشی وگیان کیندر، سریا کی جانب سے بھی انہیں ان کی خدمات کے لیے اعزاز سے نوازا جا چکا ہے۔
مستقبل کی راہ
لگن دیو رائے کا ماننا ہے کہ قدرتی کھیتی نہ صرف ماحول کو محفوظ رکھتی ہے بلکہ کسانوں کو بازار پر انحصار کرنے سے بھی آزاد کرتی ہے۔ آج ان کے کھیتوں میں سیکھنے کے لیے دور دراز سے کسان آتے ہیں۔ محکمہ زراعت کے حکام کا کہنا ہے کہ لگن دیو جیسے تجربہ کار کسانوں کی بدولت ہی ضلع میں پائیدار زراعت کا خواب شرمندہ تعبیر ہو رہا ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
