امریکی گرین کارڈ قواعد پر یو ٹرن: تارکین وطن کو بڑی راحت
امریکہ میں گرین کارڈ کے حصول کے خواہشمند تارکین وطن کے لیے ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ امریکی حکومت نے ان افواہوں کی تردید کی ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ گرین کارڈ کے درخواست دہندگان کو اپنی درخواست کی کارروائی مکمل ہونے تک امریکہ چھوڑ کر اپنے آبائی وطن واپس جانا پڑ سکتا ہے۔ محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) نے واضح کیا ہے کہ پالیسی میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی گئی ہے اور زیادہ تر درخواست دہندگان کو گرین کارڈ کی کارروائی کے دوران امریکہ میں رہنے کی اجازت ملتی رہے گی۔
تنازعہ کیا تھا؟
یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب امریکی شہریت اور امیگریشن سروسز (USCIS) کی جانب سے ایک اعلان جاری کیا گیا تھا۔ اس اعلان سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ گرین کارڈ کے لیے درخواست دینے والے افراد کو عام طور پر امریکہ چھوڑ کر اپنے آبائی ملک میں انتظار کرنا پڑے گا، اور صرف ‘غیر معمولی’ حالات میں ہی انہیں امریکہ میں رہنے کی اجازت ملے گی۔ اس اعلان کے بعد تارکین وطن کی برادریوں اور امیگریشن حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں میں شدید تشویش پھیل گئی تھی۔
DHS کا موقف
جمعہ کو، DHS نے وضاحت کی کہ گرین کارڈ کے عمل سے متعلق کوئی وسیع پالیسی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ محکمہ کے مطابق، امیگریشن حکام کے پاس پہلے سے ہی یہ اختیار موجود ہے کہ وہ ہر معاملے کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیں اور فیصلہ کریں کہ آیا کسی درخواست دہندہ کو امریکہ کے اندر ہی کارروائی مکمل کرنے کی اجازت دی جائے یا بیرون ملک سے۔ DHS کے ترجمان نے کہا کہ حالیہ ہدایات صرف حکام کو ان کے موجودہ اختیارات کی یاد دلانے کے لیے جاری کی گئی تھیں، نہ کہ تمام درخواست دہندگان پر کوئی نیا اصول لاگو کرنے کے لیے۔
زیادہ تر درخواست دہندگان پر اثر نہیں پڑے گا
محکمے نے زور دے کر کہا کہ مستقل رہائش کے خواہشمند زیادہ تر افراد کو گرین کارڈ کی درخواست کے جائزے کے دوران امریکہ میں ہی رہنے کی اجازت ملتی رہے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ بڑی تعداد میں درخواست دہندگان کو ملک چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ تاہم، حکام نے اشارہ دیا ہے کہ کچھ خاص حالات، جیسے ویزا کی مدت سے زیادہ قیام یا دیگر امیگریشن سے متعلق خلاف ورزیاں، انفرادی معاملات میں فیصلے کو متاثر کر سکتی ہیں۔
اب بھی کئی سوالات باقی
اگرچہ DHS کی وضاحت سے صورتحال کافی حد تک واضح ہوئی ہے، لیکن حکومت نے ابھی تک تفصیل سے یہ نہیں بتایا ہے کہ کن حالات میں کسی شخص کو گرین کارڈ کے عمل کے دوران امریکہ چھوڑنے کے لیے کہا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امیگریشن ماہرین اب بھی مزید واضح ہدایات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کا ردعمل
رپورٹ کے مطابق، وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہلکار نے اس پورے معاملے کو ایک معمول کا انتظامی عمل قرار دیا ہے۔ اہلکار کا کہنا ہے کہ یہ امریکی امیگریشن پالیسی میں کسی بڑے اسٹریٹجک تبدیلی کا اشارہ نہیں ہے، بلکہ پہلے سے موجود اختیارات اور طریقہ کار کو دہرانے والا قدم ہے۔
بھارتیوں کے لیے راحت
اس فیصلے سے امریکہ میں مقیم بھارتیوں کو بڑی راحت ملے گی۔ پہلے یہ خدشہ تھا کہ گرین کارڈ کے لیے درخواست دینے والے لوگوں کو منظوری ملنے تک امریکہ چھوڑ کر اپنے ملک واپس جانا پڑ سکتا ہے۔ لیکن اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ زیادہ تر لوگوں کو ایسا نہیں کرنا پڑے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ بھارتی گرین کارڈ کا انتظار کرتے ہوئے اپنی نوکری جاری رکھ سکیں گے، بچوں کی تعلیم جاری رکھ سکیں گے اور اپنے خاندان کے ساتھ امریکہ میں رہ سکیں گے۔ خاص طور پر ان بھارتیوں کے لیے یہ اچھی خبر ہے، جنہیں گرین کارڈ ملنے میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔