پرشاد ہسپتال آتشزدگی: آئی سی یو ڈیوٹی سے فرار ہونے پر ڈاکٹر معطل، تحقیقات کا دائرہ وسیع
مظفرپور: پرشاد ہسپتال آتشزدگی کیس میں انتظامیہ کی سخت کارروائی
مظفرپور کے پرشاد ہسپتال میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد، جس میں سات مریض اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے، انتظامیہ نے سخت اقدامات اٹھانا شروع کر دیے ہیں۔ صحت کے محکمے نے آئی سی یو ڈیوٹی کے دوران مریضوں کو چھوڑ کر چلے جانے کے الزام میں ایک ڈاکٹر کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔
ضلع مجسٹریٹ سبرت کمار سین کی سفارش پر، بندرا کے پرائمری ہیلتھ سینٹر کے انچارج میڈیکل آفیسر ڈاکٹر پنکج کمار کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ 4 جون کو پرشاد ہسپتال کے آئی سی یو میں آگ لگنے کے وقت وہ ڈیوٹی پر تعینات تھے، لیکن آگ لگنے کے دوران مریضوں کو چھوڑ کر وہاں سے چلے گئے۔ اس کے علاوہ، ان پر سرکاری ملازمت میں رہتے ہوئے نجی ہسپتال میں کام کرنے اور پرائمری ہیلتھ سینٹر سے غیر مجاز طور پر غیر حاضر رہنے کے الزامات بھی ہیں۔
صحت کے محکمے نے اس معاملے کو سنگین انتظامی لاپرواہی اور مریضوں کے تئیں بے حسی قرار دیتے ہوئے بہار سرکاری سیوک (درجہ بندی، کنٹرول اور اپیل) قواعد 2005 کے تحت کارروائی کی ہے۔ معطلی کی مدت کے دوران ان کا ہیڈ کوارٹر صحت کے محکمے، پٹنہ میں مقرر کیا جائے گا اور انہیں قواعد کے مطابق گزارہ الاؤنس دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی پورے معاملے کی محکمانہ تحقیقات بھی کرائی جائے گی۔
ضلع مجسٹریٹ کا سخت پیغام: صحت خدمات میں لاپرواہی ناقابل برداشت
ضلع مجسٹریٹ سبرت کمار سین نے واضح طور پر کہا ہے کہ مریضوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے اور صحت خدمات میں کسی بھی سطح کی لاپرواہی کو سنجیدگی سے لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہنگامی حالات میں تعینات ڈاکٹروں اور صحت کارکنوں سے مکمل جوابدہی کی توقع کی جاتی ہے۔ سرکاری فرائض کی انجام دہی میں سستی برتنے والے کسی بھی افسر یا اہلکار کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ضلع مجسٹریٹ نے اے ای ایس اور ممکنہ آفات کے پیش نظر ضلع کے تمام انچارج میڈیکل آفیسرز، ڈاکٹروں اور صحت کارکنوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنی ڈیوٹی کے تئیں پوری طرح چوکس رہیں اور ہنگامی صورتحال میں مقررہ پروٹوکول پر عمل کو یقینی بنائیں۔
25 ہسپتالوں پر کارروائی، تحقیقات جاری
پرشاد ہسپتال حادثے کے بعد ضلع انتظامیہ نے نجی ہسپتالوں اور نرسنگ ہومز کے خلاف ایک وسیع تحقیقاتی مہم شروع کی ہے۔ حفاظتی معیارات اور سرکاری پروٹوکول کی خلاف ورزی پائے جانے پر اب تک 25 صحت اداروں کو سیل کیا جا چکا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی مہم مسلسل جاری رہے گی اور قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی ادارے کو بخشا نہیں جائے گا۔ ادھر پرشاد ہسپتال آتشزدگی کیس میں گرفتار ہسپتال مینیجر ڈاکٹر اپیندر پرشاد کو عدالت سے ضمانت مل گئی ہے۔ تاہم، انتظامی اور محکمانہ سطح پر تحقیقات جاری ہیں اور معاملے سے جڑے دیگر پہلوؤں کی بھی چھان بین کی جا رہی ہے۔
اجازت دینے والے افسران بھی تحقیقات کے دائرے میں
ترہت ڈویژن کے کمشنر گرور دیال سنگھ نے کہا ہے کہ آتشزدگی کے ہر پہلو کی گہرائی سے تحقیقات کرائی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی قصوروار کو بخشا نہیں جائے گا۔ کمشنر نے یہ بھی کہا کہ یہ تحقیقات صرف ہسپتال انتظامیہ تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ ہسپتال کو چلانے کی اجازت کن حالات میں ملی اور متعلقہ افسران نے کس بنیاد پر منظوری دی تھی۔ اگر تحقیقات میں کسی افسر کا کردار مشکوک پایا جاتا ہے تو اس کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
واضح رہے کہ 4 جون کی صبح سویرے پرشاد ہسپتال کے آئی سی یو میں آگ لگنے سے چھ مریضوں کی موت ہو گئی تھی۔ بعد میں علاج کے دوران ایک اور مریض نے دم توڑ دیا، جس کے بعد مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر سات ہو گئی۔ حادثے کے بعد سے انتظامیہ، صحت کا محکمہ اور ضلع انتظامیہ مسلسل کارروائی کر رہے ہیں اور پورے معاملے کی تحقیقات کئی سطحوں پر جاری ہیں۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔