مظفرپور اسپتال آتشزدگی: گرفتار ڈاکٹر سرکاری ملازم نکلا، پرائیویٹ پریکٹس پر محکمہ صحت میں کھلبلی
سرکاری ڈیوٹی کے دوران نجی اسپتال میں خدمات: ڈاکٹر کی گرفتاری سے محکمہ صحت میں ہلچل
مظفرپور کے پرساد اسپتال میں پیش آئے المناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد اب ایک نیا انکشاف سامنے آیا ہے جس نے محکمہ صحت کے حکام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس معاملے میں گرفتار کیے گئے ڈاکٹر پنکج کمار کے بارے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ نہ صرف ایک نجی اسپتال سے وابستہ تھے، بلکہ وہ سرکاری طور پر بندرا پی ایچ سی میں بطور میڈیکل آفیسر تعینات ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، ڈاکٹر پنکج کمار ستمبر 2020 سے بندرا پرائمری ہیلتھ سینٹر (پی ایچ سی) میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ جس دن انہیں نجی اسپتال میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے پایا گیا، اسی دن ان کی سرکاری ڈیوٹی کا روسٹر بھی موجود تھا۔ اس انکشاف کے بعد اب یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ ایک سرکاری ملازم کس طرح ڈیوٹی کے اوقات میں نجی کلینک میں پریکٹس کر سکتا ہے۔
محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق، ڈاکٹر پنکج نے جمعہ کے روز کے لیے چھٹی کی درخواست دی تھی، جسے پی ایچ سی انچارج کے ذریعے سول سرجن کے دفتر بھیج دیا گیا تھا۔ تاہم، گرفتاری کی خبر ملتے ہی محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے اس معاملے کا سخت نوٹس لیا ہے۔
محکمہ صحت کی جانب سے تحقیقات کا آغاز
سول سرجن ڈاکٹر سدھیر کمار نے اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے بندرا پی ایچ سی انچارج سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کی گہرائی سے تحقیقات کی جائے گی کہ آیا ڈاکٹر سرکاری ملازمت کے ساتھ نجی اداروں میں تنخواہ دار ملازم کے طور پر کام کر رہے تھے یا نہیں۔
- ڈاکٹر پنکج کمار 2020 سے بندرا پی ایچ سی میں تعینات ہیں۔
- گرفتاری کے بعد محکمہ صحت نے وضاحت طلب کر لی ہے۔
- نجی اسپتالوں میں سرکاری ڈاکٹروں کی پریکٹس پر سوالات اٹھنے لگے۔
پی ایچ سی انچارج ڈاکٹر نوشاد احمد نے تصدیق کی ہے کہ انہیں ڈاکٹر کی گرفتاری کی اطلاع موصول ہوئی ہے اور اب ان سے باضابطہ وضاحت مانگی جائے گی۔ رپورٹ موصول ہونے کے بعد ہی محکمہ صحت کی جانب سے مزید تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اس واقعے نے مظفرپور کے نجی اسپتالوں کے نظام اور سرکاری ڈاکٹروں کی ڈیوٹی کے حوالے سے کئی سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔