مظفر پور: پرشاد ہسپتال کے آئی سی یو میں آگ لگنے سے زیر علاج خاتون کی دردناک موت
مظفر پور میں ہسپتال کا آئی سی یو بنا موت کا کنواں
مظفر پور کے برہم پورہ علاقے میں واقع پرشاد ہسپتال میں پیش آنے والے ایک المناک واقعے نے پورے ضلع کو سوگوار کر دیا ہے۔ ہسپتال کے آئی سی یو میں اچانک بھڑکنے والی آگ کی زد میں آکر موتی پور بلاک کے بستولیا گاؤں کی رہائشی 62 سالہ گیت دیوی کی موت ہو گئی۔ متوفیہ طویل عرصے سے گردے کے عارضے میں مبتلا تھیں اور گزشتہ چھ ماہ سے باقاعدگی سے اسی ہسپتال میں ڈائلیسس کروا رہی تھیں۔
واقعہ کیسے پیش آیا؟
جمعرات کا دن معمول کے مطابق شروع ہوا تھا۔ گیت دیوی حسب معمول ڈائلیسس کے عمل سے گزر رہی تھیں کہ اچانک آئی سی یو کے اندر سے دھواں اٹھنے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے آگ نے پورے کمرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ہسپتال کے عملے اور وہاں موجود لوگوں میں افراتفری مچ گئی۔ آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ مریضہ کو وہاں سے نکالنے کا کوئی موقع نہیں مل سکا اور وہ وہیں دم توڑ گئیں۔
سوگوار خاندان اور انتظامیہ کا ردعمل
اس واقعے کے بعد متوفیہ کے گاؤں میں کہرام مچ گیا۔ ان کے تینوں بیٹوں اور شوہر ایشور ٹھاکر کا رو رو کر برا حال ہے۔ لاش کا پوسٹ مارٹم کروانے کے بعد جب میت کو ان کے آبائی گاؤں لایا گیا تو وہاں لوگوں کا تانتا بندھ گیا۔ موتی پور بلاک کی مکھیا سنجو دیوی نے سوگوار خاندان سے ملاقات کی اور واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
سرکاری امداد اور سوالات
واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے بلاک کے سی او ترون کمار نے متاثرہ خاندان سے تعزیت کی اور سرکاری ضابطے کے تحت چار لاکھ روپے کی امدادی رقم کا چیک حوالے کیا۔ تاہم، اس واقعے نے ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات اور فائر سیفٹی کے معیار پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مقامی لوگ اور لواحقین اب اس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ ہسپتال انتظامیہ کی غفلت کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کی جائے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
