مظفرپور کے ہسپتال میں آتشزدگی: عینی شاہدین کے دعوے، ہلاکتوں کی تعداد پر سوالات
مظفرپور کے برہم پورہ علاقے میں واقع پرساد ہسپتال میں لگنے والی ہولناک آگ نے شہر کو سوگوار کر دیا ہے۔ اس حادثے میں اب تک پانچ افراد کی موت کی تصدیق ہوئی ہے، تاہم عینی شاہدین کے بیانات نے ہلاکتوں کی اصل تعداد کے بارے میں سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ کئی عینی شاہدین کا دعویٰ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد 25 سے زیادہ ہو سکتی ہے، اور ہسپتال انتظامیہ پر لاپرواہی اور لاشوں کو ٹھکانے لگانے کے الزامات بھی عائد کیے جا رہے ہیں۔
آگ اور افراتفری کا منظر
یہ دلخراش واقعہ ہسپتال کی پانچویں منزل پر واقع آئی سی یو وارڈ میں پیش آیا۔ آگ لگنے کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے پورے ہسپتال میں گھنا دھواں پھیل گیا، جس سے مریضوں اور ان کے لواحقین میں شدید افراتفری مچ گئی۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ ہسپتال کی لفٹ پہلے ہی بند تھی، اور اسے تالا توڑ کر کئی مریضوں کو باہر نکالنا پڑا۔ اس نے کمروں کے دروازے توڑ کر ہوا کے لیے راستہ بنایا تاکہ اندر پھنسے لوگوں کو کچھ راحت مل سکے۔
عینی شاہدین کے چونکا دینے والے دعوے
حادثے کے وقت ہسپتال میں موجود ایک نوجوان، جس نے کئی جانیں بچانے میں مدد کی، نے بتایا کہ آئی سی یو میں 25 سے زیادہ مریض تھے اور اس کا خیال ہے کہ ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچا۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تمام لاشوں کو پہلے ہی ہٹا دیا گیا ہے۔ مرنے والوں کے لواحقین نے بھی اپنے پیاروں کی لاشیں غائب ہونے کی شکایت کی ہے۔ ایک متاثرہ خاندان نے بتایا کہ انہوں نے اپنے مریض کو 31 مئی کی رات کو ہسپتال میں داخل کرایا تھا، لیکن اب ان کی لاش کے بارے میں کوئی معلومات نہیں مل رہی ہیں۔
انتظامیہ پر لاپرواہی کے الزامات
ایک اور عینی شاہد نے ہسپتال انتظامیہ پر شدید لاپرواہی کا الزام لگایا ہے۔ اس کے مطابق، آئی سی یو میں ایئر کنڈیشنر مسلسل چلتے رہتے ہیں اور ان کی مناسب دیکھ بھال ضروری ہوتی ہے۔ اس نے اشارہ دیا کہ آگ کی وجہ اے سی میں خرابی ہو سکتی ہے۔ ایک اور عینی شاہد نے صبح 3 بجے کے قریب آگ لگنے کی اطلاع دی اور بتایا کہ جب وہ آئی سی یو پہنچا تو ہسپتال کا عملہ مریضوں کو چھوڑ کر بھاگ رہا تھا اور کوئی بھی مریضوں کی مدد نہیں کر رہا تھا۔ دھوئیں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اندر جانا ناممکن تھا۔
تحقیقات کا مطالبہ
اس واقعے نے ہسپتالوں میں حفاظتی اقدامات اور انتظامیہ کی ذمہ داریوں پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ عینی شاہدین کے دعوے اور لاشوں کے غائب ہونے کی اطلاعات صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ مقامی حکام سے اس معاملے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔