مقامی خبریں

گروپ اسٹڈی کے بہانے گھر میں گھس کر سی سی ٹی وی اور ای میل ہیک، بیٹی کو اغوا کرنے کی دھمکی: مظفرپور میں ماں بیٹی ہراسانی کا شکار

مظفرپور: طالب علم پر ماں بیٹی کو ہراساں کرنے کا الزام

مظفرپور کے نگر تھانہ علاقے میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک 21 سالہ طالب علم پر ماں اور بیٹی کو مسلسل ہراساں کرنے، نازیبا پیغامات بھیجنے اور دھمکیاں دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ یہ طالب علم بیٹی کا اسکول کا دوست تھا اور گروپ اسٹڈی کے بہانے ان کے گھر آتا جاتا تھا۔

خاتون نے پولیس کو دیے گئے اپنے بیان میں بتایا کہ ان کے شوہر قطر میں مقیم ہیں اور وہ اپنی بیٹی کے ساتھ گھر میں اکیلی رہتی ہیں۔ اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملزم طالب علم نے گزشتہ چھ ماہ سے ان کے گھر آنا جانا بڑھا دیا تھا۔ جب اس کے رویے پر اعتراض کیا گیا تو اس نے ماں بیٹی کو پریشان کرنا شروع کر دیا اور دھمکیاں دینے لگا۔

سی سی ٹی وی اور ای میل ہیک کرنے کا الزام

خاتون کا الزام ہے کہ طالب علم نے انہیں دھمکی دی کہ اس نے ان کے گھر کے سی سی ٹی وی کیمرے اور ای میل اکاؤنٹس ہیک کر لیے ہیں۔ اس کے بعد اس نے مختلف موبائل نمبروں سے کالز اور نازیبا پیغامات بھیجنا شروع کر دیے۔ ایف آئی آر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملزم فون پر فحش پیغامات بھیجتا ہے اور گندی زبان استعمال کرتا ہے۔

خاتون نے مزید بتایا کہ طالب علم نے گھر میں لگے سی سی کیمروں، جی میل آئی ڈی اور دیگر الیکٹرانک آلات تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی۔ وہ ماں بیٹی کی تصاویر اور ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی دھمکی دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر اس کی بات نہ مانی گئی تو وہ ان کی ‘عزت کی دھجیاں اڑا دے گا’۔

بیٹی کو اغوا کر کے جسم فروشی میں دھکیلنے کی دھمکی

اس معاملے میں سب سے سنگین الزام یہ ہے کہ طالب علم نے بیٹی کو اغوا کر کے جسم فروشی کے دھندے میں بیچنے کی دھمکی دی ہے۔ خاتون کا کہنا ہے کہ ان دھمکیوں کی وجہ سے وہ اور ان کی بیٹی مسلسل خوف کے ماحول میں زندگی گزار رہی ہیں۔ ملزم پر دباؤ ڈالنے اور اپنی بات منوانے کے لیے طرح طرح کی دھمکیاں دینے کا الزام ہے۔

پولیس نے خاتون کی شکایت پر نگر تھانے میں ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ نگر تھانے کے انچارج جے پرکاش سنگھ نے بتایا کہ معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔ خاتون کی طرف سے لگائے گئے الزامات کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک شواہد اور کالز و پیغامات سے متعلق حقائق کی بھی چھان بین کی جائے گی۔ جانچ میں جو حقائق سامنے آئیں گے، ان کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button