پٹنہ کے ہوٹل کاروباری کو ہنی ٹریپ میں پھنسا کر ایک کروڑ کی بھتہ خوری، مظفرپور سے 20 لاکھ برآمد
پٹنہ کے ہوٹل کاروباری سے ہنی ٹریپ کے ذریعے کروڑوں کی وصولی کی کوشش
بہار کی راجدھانی پٹنہ کے ایک معروف ہوٹل کاروباری کو ہنی ٹریپ (Honey Trap) کے جال میں پھنسا کر بھاری رقم بٹورنے کا ایک سنگین معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس معاملے کے تار مظفرپور سے جڑے ہوئے ہیں، جہاں پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بھتہ خوری کی رقم کا ایک بڑا حصہ برآمد کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، پٹنہ کے کاروباری کو ایک منظم گروہ نے پہلے اپنے جال میں پھنسایا اور پھر انہیں بلیک میل کرنا شروع کر دیا۔ ملزمان نے کاروباری سے ایک کروڑ روپے کی بھتہ خوری کا مطالبہ کیا اور دھمکی دی کہ اگر رقم نہیں دی گئی تو ان کی نجی زندگی اور ساکھ کو نقصان پہنچایا جائے گا۔ جان و مال کے خوف سے کاروباری نے ابتدائی طور پر 20 لاکھ روپے ملزمان کے حوالے کر دیے۔ یہ رقم مظفرپور کے اہیاپور تھانہ علاقہ میں وصول کی گئی۔
رقم حوالے کرنے کے بعد کاروباری نے ہمت دکھائی اور فوری طور پر مظفرپور پولیس کو اس پورے واقعے کی خفیہ اطلاع دی۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ایس پی کانتس کمار مشرا کی ہدایت پر ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی۔ پولیس نے تکنیکی نگرانی اور خفیہ ذرائع کی مدد سے اہیاپور کے ایس کے ایم سی ایچ (SKMCH) کے قریب واقع ایک گھر پر چھاپہ مارا۔ اس کارروائی کے دوران پولیس نے بھتہ خوری میں دیے گئے 20 لاکھ روپے نقد برآمد کر لیے اور دو مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا۔
تحقیقات کا دائرہ وسیع
مظفرپور سٹی ایس پی محب اللہ انصاری نے بتایا کہ اس معاملے میں مزید تفتیش جاری ہے۔ پولیس اس بات کا پتہ لگا رہی ہے کہ اس ہنی ٹریپ گروہ میں کون سی خاتون شامل تھی اور اس کے پیچھے کون سے بڑے چہرے ہیں۔ برآمد شدہ رقم کے بارے میں محکمہ انکم ٹیکس کو بھی مطلع کر دیا گیا ہے۔
پولیس کا ماننا ہے کہ یہ ایک منظم گروہ ہے جو کاروباریوں اور حساس عہدوں پر فائز افراد کو اپنا شکار بناتا ہے۔ ہنی ٹریپ کے اس طریقہ کار میں متاثرہ شخص کو جذباتی تعلقات یا جسمانی قربت کا لالچ دے کر پہلے پھنسایا جاتا ہے اور پھر نازیبا تصاویر یا ویڈیوز کے ذریعے بلیک میلنگ کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ فی الحال پولیس گرفتار ملزمان سے پوچھ گچھ کر رہی ہے تاکہ گروہ کے دیگر ارکان تک پہنچا جا سکے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔