مظفر پور: تیز رفتار بس نے بائیک سواروں کو 50 میٹر تک گھسیٹا، ایک نوجوان کی موت
کچی پکی چوک پر دل دہلا دینے والا حادثہ
مظفر پور کے کچی پکی چوک پر ہفتہ کی شام ایک ہولناک سڑک حادثہ پیش آیا، جس میں ایک نوجوان کی جان چلی گئی جبکہ دوسرا شدید زخمی ہو گیا ہے۔ حادثہ اس وقت ہوا جب ایک بے قابو مسافر بس نے بائیک سوار دو نوجوانوں کو زوردار ٹکر مار دی۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ بائیک بس کے اگلے حصے میں پھنس گئی اور بس اسے تقریباً 50 میٹر تک سڑک پر گھسیٹتی ہوئی لے گئی۔
متاثرین کی شناخت اور صورتحال
حادثے میں جان گنوانے والے نوجوان کی شناخت محمد عاطف (25 سال) کے طور پر ہوئی ہے، جو منیاری تھانہ علاقہ کے چین پور بنگرہ کا رہائشی تھا۔ اس کے ساتھ موجود دوسرا نوجوان بھی اسی گاؤں کا بتایا جا رہا ہے، جسے تشویشناک حالت میں ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے جہاں ڈاکٹر اس کی جان بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
عینی شاہدین کا بیان اور افراتفری
مقامی لوگوں کے مطابق، ٹکر کے بعد بس ڈرائیور نے گاڑی روکنے کے بجائے اسے دوڑائے رکھا، جس کی وجہ سے بائیک سوار سڑک پر گھسٹتے چلے گئے۔ اس واقعے کے بعد ڈرائیور بس کو بیچ سڑک پر ہی چھوڑ کر فرار ہو گیا۔ اس حادثے کے بعد مظفر پور-ہا جی پور مین روڈ پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا۔ سڑک پر بکھری بائیک اور لاش کو دیکھ کر موقع پر موجود لوگوں میں شدید غم و غصہ پایا گیا۔
پولیس کی کارروائی
اطلاع ملتے ہی کچی پکی تھانہ پولیس موقع پر پہنچی اور حالات کو قابو میں کیا۔ پولیس نے لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے ایس کے ایم سی ایچ (SKMCH) بھیج دیا ہے۔ حادثہ کا شکار بس اور تباہ شدہ بائیک کو ضبط کر لیا گیا ہے۔ تھانہ انچارج اروند کمار نے بتایا کہ فرار ڈرائیور کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور جلد ہی اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ لواحقین کو واقعے کی اطلاع دے دی گئی ہے اور قانونی کارروائی جاری ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
