مظفرپور کے ڈاکٹر سنجے پنکج کو ساہتیہ شری سمان سے نوازا جائے گا: کولکاتا میں 20 دسمبر کو تقریب
مظفرپور کے معروف شاعر اور گیت کار ڈاکٹر سنجے پنکج کو ادب اور ثقافت کے میدان میں ان کی مسلسل اور شاندار خدمات کے اعتراف میں ‘رچناکار ساہتیہ شری سمان’ سے سرفراز کیا جائے گا۔ یہ باوقار اعزاز مغربی بنگال کی ادبی و ثقافتی تنظیم ‘رچناکار بھارت فاؤنڈیشن’ کے قومی کنونشن کے دوران پیش کیا جائے گا۔ یہ تقریب 20 دسمبر کو کولکاتا میں منعقد ہوگی۔ اس خبر کی تصدیق فاؤنڈیشن کے بانی صدر اور معروف ادیب سریش چودھری نے کی ہے۔
ڈاکٹر سنجے پنکج ایک ایسے شاعر ہیں جو مختلف چھندوں (میٹر) پر مکمل عبور رکھتے ہیں اور ان کی شاعری میں جمالیاتی حسن نمایاں ہے۔ ان کے گیتوں کے مجموعے جیسے ‘منظر منظر آگ لگی ہے’، ‘یہاں تو سب بنجارے’، ‘شبْدوں کے پھول کھلے’ اور ‘بجے شونیہ میں انہد باجا’ نے ادبی حلقوں میں کافی شہرت حاصل کی ہے۔ ان کی تخلیقات کو قارئین اور ناقدین دونوں کی جانب سے سراہا گیا ہے، جو ان کی گہری فکری بصیرت اور زبان پر مضبوط گرفت کا ثبوت ہیں۔
خاص طور پر، دوہا چھند میں لکھی گئی ان کی تصنیف ‘ماں ہے شبداتیت، شبد نہیں ماں چیتنا’ کو ایک منفرد شناخت ملی ہے۔ یہ کتاب ماں کی ہستی کو الفاظ کی قید سے آزاد اور محض ایک شعور کے طور پر پیش کرتی ہے۔ اس کتاب کی گہرائی اور روحانیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مشہور رام کتھا واچک موراری باپو اور رمیش بھائی اوجھا جیسے جید سنت اور اسکالر اپنے خطبات اور پرواچنوں میں اس کا اکثر ذکر کرتے ہیں۔ یہ حوالہ جات اس تصنیف کی اہمیت اور اس کے وسیع اثرات کو اجاگر کرتے ہیں۔
ڈاکٹر سنجے پنکج کا یہ اعزاز نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی ہے بلکہ یہ مظفرپور کے ادبی منظر نامے کے لیے بھی فخر کا باعث ہے۔ یہ سمان ان کی برسوں کی محنت، تخلیقی صلاحیت اور ادب کے تئیں ان کی لگن کا اعتراف ہے۔ ان کی شاعری اور گیتوں نے ہمیشہ سماج کو ایک مثبت پیغام دیا ہے اور انسانی جذبات کی عکاسی کی ہے۔ یہ تقریب ادبی دنیا میں ان کے مقام کو مزید مستحکم کرے گی اور نئی نسل کے ادیبوں اور شاعروں کے لیے ایک تحریک کا باعث بنے گی۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
