مظفرپور: کاونٹی-رگھئی گھاٹ سڑک کی تعمیر ادھوری، ٹھیکیدار پر کارروائی کی تیاری
سڑک کی تعمیر میں سستی، عوام کی مشکلات میں اضافہ
مظفرپور کے کاونٹی-رگھئی گھاٹ روڈ کو کشادہ کرنے کا منصوبہ جو علاقے کے لوگوں کے لیے سہولت کا باعث بننا تھا، اب انتظامی لاپرواہی کی نذر ہو گیا ہے۔ سڑک کی تعمیر کا کام گزشتہ دو ماہ سے مکمل طور پر ٹھپ پڑا ہے، جس کی وجہ سے مقامی رہائشیوں اور مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔
منصوبے کی موجودہ صورتحال
محکمہ تعمیراتِ عامہ کے اعداد و شمار کے مطابق، اس منصوبے پر کام شروع ہوئے چار ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن اب تک کل کام کا 50 فیصد حصہ بھی مکمل نہیں کیا جا سکا ہے۔ کام کی اس سست رفتاری نے محکمہ کے اعلیٰ حکام کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
ایجنسی کے خلاف سخت اقدامات
کام میں مسلسل تاخیر اور ٹھیکیدار کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنانے کے بعد، محکمہ تعمیراتِ عامہ کے ایگزیکٹو انجینئر نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ مشرقی چمپارن کی ‘امبر انفرا’ نامی ایجنسی کو، جسے یہ ٹھیکہ دیا گیا تھا، بلیک لسٹ کرنے یا ‘ڈیبار’ کرنے کی سفارش ہیڈکوارٹر کو بھیج دی گئی ہے۔
- ٹھیکیدار کو کئی بار نوٹس جاری کیے گئے لیکن کوئی ٹھوس جواب نہیں ملا۔
- ڈیبار ہونے کی صورت میں ایجنسی مستقبل میں کسی بھی نئے ٹینڈر کے لیے اہل نہیں ہوگی۔
- محکمہ اب ہیڈکوارٹر کی ہدایات کا منتظر ہے تاکہ اگلا قدم اٹھایا جا سکے۔
عوام کا مطالبہ
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سڑک کی کھدائی اور ادھورے کام کی وجہ سے حادثات کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ محکمہ نے واضح کیا ہے کہ اگر ہیڈکوارٹر کی جانب سے بھیجے جانے والے حتمی نوٹس کے بعد بھی کام شروع نہیں کیا گیا، تو ایجنسی کو مستقل طور پر بلیک لسٹ کر دیا جائے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ کی اس سختی کے بعد کام کب تک دوبارہ شروع ہو پاتا ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
