مقامی خبریں

مظفرپور: پارو میں کشتی الٹنے سے دو بچے ڈوب کر جاں بحق، سیلاب متاثرین کو بچانے کی کوششیں جاری

مظفرپور: پارو میں کشتی الٹنے سے دو بچے ڈوب کر جاں بحق، سیلاب متاثرین کو بچانے کی کوششیں جاری

مظفرپور کے پارو بلاک میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا جہاں سیلاب زدہ علاقے سے لوگوں کو نکالتے ہوئے ایک کشتی الٹ گئی، جس کے نتیجے میں دو معصوم بچے ڈوب کر جاں بحق ہو گئے۔ یہ حادثہ منگل کے روز کُبولی ڈھالا گاؤں میں پیش آیا، جب بچاؤ ٹیمیں سیلاب میں پھنسے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی تھیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق، کشتی میں تقریباً نصف درجن افراد سوار تھے جب وہ سیلاب کے تیز بہاؤ کی زد میں آ کر الٹ گئی۔ اس حادثے میں منا پاسوان کے بیٹے سنی کمار اور جے کشور کے بیٹے وکاس کمار کی موت کی تصدیق ہوئی ہے۔ واقعے کے بعد علاقے میں افراتفری کا ماحول پیدا ہو گیا اور مقامی لوگوں نے فوری طور پر بچاؤ کی کوششیں شروع کر دیں۔

اطلاع ملتے ہی ریاستی ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (SDRF) کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور ڈوبنے والے بچوں کی تلاش کا کام شروع کیا۔ پولیس اور انتظامیہ کے اعلیٰ حکام بھی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے موقع پر پہنچے، جن میں سٹی ایس پی بھی شامل تھے۔ بچاؤ اور امدادی کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں اور حکام صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

مظفرپور میں اس وقت سیلاب کی صورتحال انتہائی سنگین ہے۔ گنڈک ندی میں پانی کی سطح میں حالیہ اضافے کے باعث پارو سمیت کئی علاقے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ پارو کے چکی سوہاگپور پنچایت میں تقریباً 6,500 افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں اور کئی سڑکیں بند ہو چکی ہیں، جس سے آمد و رفت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

اس سے قبل اورائی میں بھی باگمتی ندی کی ایک شاخ میں کشتی الٹنے سے ایک 15 سالہ لڑکی لاپتہ ہو گئی تھی۔ اس واقعے میں کشتی میں سوار دیگر افراد تیر کر محفوظ مقام پر پہنچ گئے تھے، جبکہ انتظامیہ اور SDRF نے لاپتہ لڑکی کی تلاش کے لیے وسیع پیمانے پر مہم چلائی تھی۔

مظفرپور میں سیلاب کی وجہ سے پیدا ہونے والی یہ صورتحال مقامی آبادی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے سیلاب متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، لیکن ایسے حادثات اس قدرتی آفت کی سنگینی کو مزید اجاگر کرتے ہیں۔

حکام نے بتایا ہے کہ سنی کمار اور وکاس کمار کی موت کی سرکاری تصدیق اور حادثے کی مکمل تفصیلات بچاؤ اور امدادی کارروائیوں کے بعد ہی واضح ہو سکیں گی۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button