مظفرپور میں پولیس کا خوف دکھا کر خاتون سے سونے کا کڑا لوٹ لیا گیا
دھوبیہ ٹولہ میں واردات، پولیس کی وردی کا جھانسا دے کر ٹھگ فرار
مظفرپور کے نگر تھانہ علاقہ کے دھوبیہ ٹولہ میں ایک بار پھر ٹھگوں کا گروہ سرگرم ہو گیا ہے۔ جمعہ کی صبح جب ایک خاتون اپنے بچے کو اسکول چھوڑنے کے لیے گھر سے نکلی تھیں، تو دو موٹر سائیکل سوار بدمعاشوں نے انہیں اپنا شکار بنا لیا۔ خود کو پولیس اہلکار ظاہر کرنے والے ان بدمعاشوں نے خاتون کو ڈرا دھمکا کر ان کے ہاتھ سے سونے کا کڑا اتروا لیا اور اس کے بدلے کاغذ کے لفافے میں پتھر کے ٹکڑے تھما کر فرار ہو گئے۔
واردات کا طریقہ کار
متاثرہ خاتون ببیتا کماری نے بتایا کہ صبح تقریباً سات بجے جب وہ اکھاڑا گھاٹ کی طرف جا رہی تھیں، تبھی ایک ہیلمٹ پہنے ہوئے نوجوان اور اس کے ساتھی نے انہیں روک لیا۔ ان بدمعاشوں نے بڑی ہوشیاری سے خاتون کو یہ یقین دلایا کہ شہر میں پولیس کی جانب سے خواتین کی حفاظت کے لیے ایک خصوصی مہم چلائی جا رہی ہے، جس کے تحت زیورات پہن کر باہر نکلنا منع ہے۔
خاتون نے جب ان کی باتوں پر یقین کر لیا، تو بدمعاشوں نے انہیں زیورات اتار کر لفافے میں رکھنے کا مشورہ دیا۔ باتوں میں الجھا کر انہوں نے بڑی مہارت سے سونے کا کڑا نکال لیا اور لفافے میں چار کنکر رکھ کر خاتون کو واپس کر دیا۔ جب خاتون نے کچھ دور جا کر لفافہ کھولا تو انہیں اپنے ساتھ ہوئی دھوکہ دہی کا احساس ہوا۔
پولیس کی کارروائی اور عوام کے لیے انتباہ
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ڈائل-112 کی ٹیم موقع پر پہنچی، لیکن تب تک بدمعاش فرار ہو چکے تھے۔ پولیس نے نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے اور علاقے میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ان کی شناخت کی کوشش کی جا رہی ہے۔
پولیس انتظامیہ نے شہر کے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی اجنبی شخص کی باتوں میں نہ آئیں، چاہے وہ خود کو پولیس یا کسی سرکاری محکمے کا اہلکار ہی کیوں نہ بتائے۔ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر قریبی تھانے یا ڈائل-112 پر رابطہ کریں۔ اس طرح کی وارداتوں میں اضافے کے پیش نظر پولیس نے عوام کو خاص طور پر محتاط رہنے کی تاکید کی ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
