مظفرپور میں غریبوں پر بلڈوزر کی کارروائیوں کے خلاف شدید احتجاج
مظفرپور میں غریبوں اور دلتوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنے کے خلاف عوامی غم و غصہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ آج بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی (مارکسسٹ-لیننسٹ) اور بہار ریاستی کھیتیہر گرامین مزدور سبھا (کھیگرامس) کے زیر اہتمام کلکٹریٹ کے احاطے میں ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اس دوران ہزاروں مظاہرین نے انتظامیہ کے رویے کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور ضلع مجسٹریٹ کے دفتر کا گھیراؤ کیا۔
مظاہرین نے الزام لگایا کہ ترقی اور تجاوزات ہٹانے کے نام پر صرف دلتوں اور پسماندہ طبقات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے ‘بلڈوزر راج مردہ باد’ کے فلک شگاف نعرے لگائے۔ احتجاجی رہنماؤں نے واضح کیا کہ متبادل رہائش فراہم کیے بغیر کسی بھی غریب کو بے گھر کرنا غیر منصفانہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتظامیہ کارپوریٹ اور بھومی مافیا کے اشاروں پر کام کرنا بند کرے۔
احتجاج کی تفصیلات
آج صبح سے ہی مظفرپور کے مختلف علاقوں سے لوگ کلکٹریٹ کی جانب مارچ کر رہے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں پلے کارڈز تھے جن پر ‘غریبوں کو بے گھر کرنا بند کرو’، ‘بلڈوزر راج نامنظور’ اور ‘زمین ہماری، حق ہمارا’ جیسے نعرے درج تھے۔ مظاہرین میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے جو اپنے گھروں اور زمینوں کے تحفظ کا مطالبہ کر رہے تھے۔
احتجاجی رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ایک طرف غریبوں کو مکانات فراہم کرنے کے دعوے کرتی ہے اور دوسری طرف انہیں بے دخل کر کے بے گھر کر رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ دوہرا معیار ناقابل قبول ہے اور اس سے سماج میں عدم مساوات بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر انتظامیہ نے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی نہ کی تو یہ احتجاج مزید شدت اختیار کرے گا۔
مطالبات اور آئندہ کا لائحہ عمل
مظاہرین نے ضلع انتظامیہ سے فوری طور پر بے دخلی کی کارروائیاں روکنے، بے گھر کیے گئے افراد کو متبادل رہائش فراہم کرنے اور غریبوں کی زمینوں کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انتظامیہ کو کارپوریٹ اور بھومی مافیا کے دباؤ میں آ کر غریبوں کے حقوق پامال نہیں کرنے چاہئیں۔
احتجاج کے اختتام پر رہنماؤں نے اعلان کیا کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو وہ آئندہ دنوں میں مزید بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ غریبوں کے حقوق کی جنگ جاری رہے گی جب تک انہیں انصاف نہیں مل جاتا۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
