مظفرپور: مہاکال سیوا دل کا جل یاترا، اجین کے روپ میں جھانکی بنی خاص توجہ کا مرکز
ساون کے مقدس مہینے میں مظفرپور کے مہاکال سیوا دل نے ایک بار پھر اپنی روایتی جل یاترا کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ یاترا پہلےجا گھاٹ سے مقدس جل لے کر بابا غریب ناتھ مندر کی جانب پیدل روانہ ہوئی ہے۔ اس سال کی یاترا کی سب سے خاص بات بابا مہاکال کے ‘اجین’ روپ کی ایک شاندار جھانکی ہے، جسے بنارس کے ماہر کاریگروں نے بیس دن کی محنت سے تیار کیا ہے۔
جمعہ کے روز سیوا دل کے اراکین نے پہلےجا گھاٹ سے جل اٹھایا اور اب وہ پیر کی صبح بابا غریب ناتھ مندر میں جل ابھیشیک کریں گے۔ یہ سالانہ تقریب ہر ساون میں منعقد کی جاتی ہے اور اس میں بڑی تعداد میں عقیدت مند شرکت کرتے ہیں۔
اجین کی جھانکی: فن اور عقیدت کا حسین امتزاج
مہاکال سیوا دل کے سیکریٹری کنال سریواستو نے بتایا کہ ‘اجین’ روپ کی یہ جھانکی تیار کرنے کے لیے بنارس سے تین ہنرمند کاریگروں کو بلایا گیا تھا۔ ان کاریگروں نے تقریباً بیس دن کی انتھک محنت کے بعد اس دلکش جھانکی کو مکمل کیا۔ اس جھانکی کی تیاری پر تقریباً 1.50 لاکھ روپے کا خرچ آیا ہے۔ یہ جھانکی اپنی خوبصورتی اور تفصیلات کی وجہ سے عقیدت مندوں کے لیے خاص کشش کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
مہاکال سیوا دل گزشتہ چار سالوں سے مظفرپور میں اس قسم کی جھانکیاں بڑے جوش و خروش سے نکال رہا ہے۔ ہر سال ایک نئے اور منفرد تھیم پر مبنی جھانکی پیش کی جاتی ہے جو عقیدت مندوں کی توجہ کا مرکز بنتی ہے۔ اس سال کی اجین جھانکی کو دیکھنے کے لیے بھی دور دور سے لوگوں کی آمد متوقع ہے۔
مقصد: مذہبی ہم آہنگی اور عقیدت کا فروغ
سیوا دل کے اراکین کنال پٹیل اور رام جی مہتو کے مطابق، اس تقریب کا بنیادی مقصد لوگوں میں مذہبی عقیدت کو بڑھانا اور مہاکال کے تئیں احترام پیدا کرنا ہے۔ جھانکی کو ایک الہامی شکل دینے کے لیے اس میں خصوصی روشنیوں، پھولوں اور دیگر سجاوٹ کا استعمال کیا گیا ہے۔ سیوا دل نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس جل یاترا اور جھانکی میں شامل ہو کر نیکیاں کمائیں اور علاقے میں امن و ہم آہنگی کو برقرار رکھیں۔ یہ تقریب نہ صرف مذہبی جوش و خروش کا مظہر ہے بلکہ یہ سماجی یکجہتی اور بھائی چارے کا بھی پیغام دیتی ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
