مظفرپور: بیٹی کی بازیابی میں ناکامی پر باپ کا احتجاج، تھانے کے باہر سڑک پر لیٹ کر انصاف کی مانگ
مظفرپور میں پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان
ضلع کے مسہری تھانہ علاقہ میں ایک نابالغ لڑکی کی گمشدگی کا معاملہ اب سنگین رخ اختیار کر گیا ہے۔ واقعہ کے دس دن گزر جانے کے بعد بھی پولیس کی جانب سے کوئی ٹھوس پیش رفت نہ ہونے پر متاثرہ خاندان کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے۔ اتوار کے روز غمزدہ والد نے تھانے کے مرکزی دروازے کے سامنے سڑک پر لیٹ کر احتجاج کیا، جس سے علاقے میں ہلچل مچ گئی۔
انصاف کے لیے سڑک پر احتجاج
متاثرہ والد کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کو غائب ہوئے ڈیڑھ ہفتے سے زیادہ کا وقت بیت چکا ہے، لیکن پولیس صرف روایتی یقین دہانیوں تک محدود ہے۔ خاندان کا الزام ہے کہ بار بار تھانے کے چکر لگانے کے باوجود نہ تو انہیں ایف آئی آر کی کاپی فراہم کی گئی ہے اور نہ ہی تفتیش میں کوئی شفافیت نظر آ رہی ہے۔ والد کا کہنا ہے کہ ایک باپ کے لیے اپنی بیٹی کی گمشدگی کا درد ناقابل برداشت ہے، اور پولیس کی سستی اس تکلیف میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔
مقامی لوگوں کی حمایت
احتجاج کے دوران بڑی تعداد میں مقامی افراد اور پڑوسی بھی جمع ہو گئے، جنہوں نے پولیس کی کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ پولیس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور لڑکی کو جلد از جلد بازیاب کرائے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر پولیس وقت پر کارروائی کرتی تو شاید آج یہ نوبت نہ آتی۔
پولیس کا موقف
دوسری جانب، مسہری تھانہ انچارج جے کشور سنگھ نے وضاحت کی ہے کہ اس معاملے میں ایف آئی آر پہلے ہی درج کر لی گئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس تکنیکی اور انسانی ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے لڑکی کی تلاش میں مصروف ہے۔ تھانہ انچارج کے مطابق، تفتیش کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور جلد ہی اس معاملے کا سراغ لگا لیا جائے گا۔
فی الحال، متاثرہ خاندان کی نظریں پولیس کی کارروائی پر جمی ہیں، جبکہ علاقے میں اس واقعے کو لے کر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔