مظفرپور: آئی سی آئی سی آئی بینک کو 1.74 کروڑ کا چونا، جعلی دستاویزات سے فراڈ
مظفرپور میں ایک سنسنی خیز مالیاتی فراڈ کا معاملہ سامنے آیا ہے جہاں آئی سی آئی سی آئی بینک لمیٹڈ کو 1 کروڑ 74 لاکھ 81 ہزار 387 روپے کا نقصان پہنچایا گیا ہے۔ یہ فراڈ جعلی دستاویزات کے ذریعے انجام دیا گیا، جس کے بعد مٹھن پورہ تھانے میں ایک باقاعدہ ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔
بینک کے علاقائی منیجر (مالیاتی جرائم کی روک تھام) آنند کمار کی تحریری شکایت پر یہ مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ شکایت کے مطابق، صدر تھانہ علاقے کے گوبرسہی کرشنا نگر میں واقع ایم ایس اسکلجا گروتھ پرائیویٹ لمیٹڈ کے ڈائریکٹر اونیش کمار شرما نے بینک میں 10 فکسڈ ڈپازٹ (ایف ڈی) اکاؤنٹس کھولے تھے۔ ان ایف ڈی اکاؤنٹس کی بنیاد پر، ایم لارڈز مارک انڈسٹریز لمیٹڈ کے حق میں پنچایتی راج دفاتر کے لیے 1.74 کروڑ روپے کی 10 بینک گارنٹیاں جاری کی گئی تھیں۔
بینک حکام کا کہنا ہے کہ اونیش کمار شرما نے سنجیو کمار اور ڈولی کماری (جو ایم ایس اسکلجا گروتھ پرائیویٹ لمیٹڈ کی ڈائریکٹر ہیں) کے ساتھ مل کر ایک منظم سازش کے تحت بینک کو یہ بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے جعلی دستاویزات کا استعمال کرتے ہوئے ان ایف ڈی کو چھڑایا جو بینک گارنٹیوں کے عوض گروی رکھی گئی تھیں۔ اس طرح، بینک کو نہ صرف ایف ڈی کی رقم سے محروم ہونا پڑا بلکہ جاری کردہ بینک گارنٹیوں کی وجہ سے بھی خطرے میں پڑ گیا۔
اس فراڈ کے سامنے آنے کے بعد مالیاتی حلقوں میں ہڑکمپ مچ گیا ہے۔ یہ واقعہ بینکوں میں سیکیورٹی اور دستاویزات کی تصدیق کے عمل پر سوالات کھڑے کرتا ہے۔ ایڈیشنل تھانیدار راہل کمار نے تصدیق کی ہے کہ معاملہ درج کر لیا گیا ہے اور تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ پولیس اب اس سازش میں شامل تمام افراد کی تلاش میں ہے اور یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس فراڈ کو کس طرح انجام دیا گیا اور اس میں مزید کون کون ملوث ہو سکتے ہیں۔
اس طرح کے فراڈ سے نہ صرف بینکوں کو مالی نقصان ہوتا ہے بلکہ عام صارفین کا اعتماد بھی متزلزل ہوتا ہے۔ توقع ہے کہ پولیس اس معاملے کی گہرائی سے چھان بین کرے گی اور ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچائے گی۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
