مقامی خبریں

شراب مافیا کے ساتھ رقص مہنگا پڑا: مظفرپور میں ASI معطل

مظفرپور میں ایک پولیس اہلکار کو شراب کے ایک بدنام زمانہ سمگلر کے ساتھ رقص کرنا اس وقت مہنگا پڑ گیا جب اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ اورائی تھانے کے ڈائل-112 پر تعینات اسسٹنٹ سب انسپکٹر (ASI) وپن سنگھ کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے، اور ان کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ یہ واقعہ پولیس فورس میں نظم و ضبط اور فرض شناسی کے معیار پر سوالات اٹھا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، ASI وپن سنگھ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلی جس میں وہ ایک تقریب میں رقص کرتے ہوئے نظر آ رہے تھے۔ اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد پولیس حکام کو متعدد شکایات موصول ہوئیں، جس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے سب ڈویژنل پولیس آفیسر، مشرقی-1 کی سطح پر تحقیقات کا حکم دیا گیا۔

تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ویڈیو میں ASI وپن سنگھ کے ساتھ رقص کرنے والا شخص اورائی تھانہ علاقے کا بدنام زمانہ شراب سمگلر اور مافیا دلچند رائے تھا۔ یہ انکشاف پولیس کے لیے تشویش کا باعث بنا، کیونکہ ایک پولیس افسر کا ایسے شخص کے ساتھ میل جول رکھنا محکمہ کے اصولوں کے خلاف ہے۔

مزید تحقیقات میں یہ بھی معلوم ہوا کہ دلچند رائے کے خلاف شراب کی برآمدگی سے متعلق تین مقدمات میں چارج شیٹ داخل کی جا چکی ہے۔ ایسے سنگین الزامات کا سامنا کرنے والے شخص کے ساتھ ایک پولیس افسر کا غیر ضروری رابطہ اور مشکوک رویہ پولیس کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ شراب سمگلر کے ساتھ اس طرح کا میل جول پولیس افسر کے مشکوک اور غیرNظمی رویے کو ظاہر کرتا ہے۔ اس سے پولیس سروس کی عزت، نظم و ضبط اور فرض شناسی متاثر ہوتی ہے۔ وائرل ویڈیو اور موصول ہونے والی شکایات کی بنیاد پر کی گئی تحقیقات میں ASI وپن سنگھ کا رویہ مشکوک، غیرNظمی اور لاپرواہی پر مبنی پایا گیا۔ پولیس محکمہ کے مطابق، ان کے اس عمل سے پولیس کی شبیہ بھی خراب ہوئی ہے۔

اسی تحقیقاتی رپورٹ کی بنیاد پر، سب ڈویژنل پولیس آفیسر، مشرقی-1 کی سفارش پر ASI وپن سنگھ کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ اس معاملے میں مزید محکمہ جاتی کارروائی جاری رہے گی تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔ یہ واقعہ پولیس اہلکاروں کے لیے ایک سبق ہے کہ وہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں مکمل ایمانداری اور احتیاط برتیں۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button