قومی خبریں

سی این جی کی قیمتوں میں پھر اضافہ: گیارہ دنوں میں چھ روپے مہنگی ہوئی گیس

عام آدمی کی جیب پر بوجھ: سی این جی کی قیمتوں میں چوتھی بار اضافہ

ملک بھر میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل کے بعد اب سی این جی (CNG) کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، سی این جی کی قیمتوں میں دو روپے فی کلوگرام کا اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد قومی دارالحکومت دہلی میں اس کی نئی قیمت 83.09 روپے فی کلوگرام تک پہنچ گئی ہے۔

یہ اضافہ گزشتہ 11 دنوں کے دوران چوتھی بار کیا گیا ہے، جس سے مجموعی طور پر سی این جی کی قیمتوں میں 6 روپے فی کلوگرام کا اضافہ ہو چکا ہے۔ قیمتوں میں اس تیزی سے ہونے والے اضافے نے عام شہریوں، خاص طور پر ٹرانسپورٹ کے شعبے سے وابستہ افراد کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

قیمتوں میں اضافے کا ٹائم لائن

سی این جی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کا سفر 15 مئی سے شروع ہوا تھا، جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

  • 15 مئی: 2 روپے فی کلو کا اضافہ
  • 18 مئی: 1 روپیہ فی کلو کا اضافہ
  • 23 مئی: 1 روپیہ فی کلو کا اضافہ
  • 26 مئی: 2 روپے فی کلو کا اضافہ

اس طرح صرف 11 دنوں کے مختصر عرصے میں سی این جی 6 روپے مہنگی ہو چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی سطح پر ایندھن کی سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث قیمتوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ خاص طور پر ہرمز کے علاقے میں تجارتی جہازوں کی نقل و حمل متاثر ہونے سے عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتیں غیر مستحکم ہوئی ہیں۔

عام زندگی پر اثرات

سی این جی کی قیمتوں میں اس مسلسل اضافے کا براہِ راست اثر دہلی-این سی آر کے ان لاکھوں افراد پر پڑ رہا ہے جو اپنی روزی روٹی کے لیے آٹو، ٹیکسی، اسکول وین اور پرائیویٹ گاڑیوں کا استعمال کرتے ہیں۔ آٹو ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں بار بار اضافے سے ان کی روزانہ کی کمائی کا ایک بڑا حصہ ایندھن کے اخراجات میں ہی ختم ہو جاتا ہے، جس سے ان کے گھر کا بجٹ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔

حکومت کی جانب سے ایندھن کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے تاحال کوئی ٹھوس اقدام سامنے نہیں آیا ہے، جس کے باعث عام آدمی میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں اگر عالمی منڈی میں حالات بہتر نہیں ہوئے تو ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button