جعلی کیوالہ معاملہ: مشہری کے معطل سی او اور آر او کو ضمانت مل گئی
مظفرپور کے مشہری بلاک میں جعلی کیوالہ کی بنیاد پر زمین کے انتقالِ ملکیت کے ایک ہائی پروفائل کیس میں گرفتار کیے گئے معطل سرکل آفیسر (سی او) مہندر شکلا اور ریونیو آفیسر (آر او) کرون کمار کو بڑی راحت ملی ہے۔ منگل کے روز خصوصی عدالت (ایم پی/ایم ایل اے معاملات) نے سماعت کے بعد دونوں افسران کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد انتظامی حلقوں میں بحث کا بازار گرم ہو گیا ہے۔
معاملے کی تفصیلات
یہ معاملہ اہیاپور تھانہ علاقے میں 70 ڈیسمل زمین کے ایک مبینہ جعلی کیوالہ سے متعلق ہے، جس کی بنیاد پر غیر قانونی طور پر داخل خارج کیا گیا تھا۔ گزشتہ جمعہ کو اہیاپور پولیس نے دونوں افسران کو گرفتار کیا تھا، جس کے بعد انہیں عدالتی حراست میں جیل بھیج دیا گیا تھا۔ ان کی گرفتاری کے بعد ریونیو اور لینڈ ریفارم ڈپارٹمنٹ نے انہیں پہلے ہی معطل کر دیا تھا۔
پیر کو دونوں افسران کے وکلاء نے ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ-اول مشرقی پنکج کمار تیواری کی خصوصی عدالت (ایم پی/ایم ایل اے معاملات) میں باقاعدہ ضمانت کے لیے درخواست دائر کی تھی۔ اس درخواست پر منگل کو خصوصی عدالت میں سماعت ہوئی، جہاں دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے ضمانت منظور کر لی۔
ایف آئی آر اور دیگر ملزمان
اس معاملے کی شروعات شہبازپور گاؤں کے رہائشی وجے کمار کی جانب سے 29 اگست کو اہیاپور تھانے میں درج کرائی گئی ایک ایف آئی آر سے ہوئی تھی۔ مدعی نے الزام لگایا تھا کہ 70 ڈیسمل زمین کا جعلی کیوالہ تیار کروا کر قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس کا داخل خارج کر دیا گیا۔
پولیس نے اس معاملے میں سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کل سات افراد کو نامزد ملزم بنایا تھا۔ ان میں بیل ساند کے ایم ایل اے امت کمار رانو، معطل سی او مہندر شکلا، آر او کرون کمار، ریونیو ملازم سنیل کمار اور انوج کمار شامل ہیں۔
آگے کی کارروائی
عدالت سے ضمانت ملنے کے بعد دونوں افسران کی جیل سے رہائی کا راستہ صاف ہو گیا ہے، اور کاغذی کارروائی مکمل ہونے کے بعد انہیں رہا کر دیا جائے گا۔ تاہم، پولیس اس بڑے انتظامی اور قانونی معاملے میں دیگر نامزد ملزمان کی شمولیت کی گہرائی سے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ اس معاملے میں مزید کیا پیش رفت ہوتی ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
