بابا غریب ناتھ دھام میں ساون کی دوسری سومواری پر عقیدت مندوں کا سمندر، ڈیڑھ لاکھ سے زائد شردھالوؤں کی آمد متوقع
بابا غریب ناتھ دھام میں ساون کی دوسری سومواری پر عقیدت مندوں کا سمندر، ڈیڑھ لاکھ سے زائد شردھالوؤں کی آمد متوقع
مظفرپور: شمالی بہار کے مشہور بابا غریب ناتھ دھام میں ساون کی دوسری سومواری پر عقیدت مندوں کا جم غفیر دیکھنے کو ملے گا۔ اندازہ ہے کہ ڈیڑھ لاکھ سے زائد شیو بھکت جلابھیشیک کے لیے پہنچیں گے۔ ہفتہ کی شام سے ہی شیو بھکتوں اور کاوڑیوں کی بھیڑ شہر کی جانب بڑھنے لگی تھی۔ یہ عقیدت مند مظفرپور سے تقریباً 70 کلومیٹر دور حاجی پور کے پہلےجا گھاٹ سے مقدس گنگا جل لے کر پیدل سفر کرتے ہوئے بابا غریب ناتھ دھام پہنچتے ہیں۔ اس دوران پورا کاوڑی پاتھ ‘بول-بم’ کے نعروں سے گونج اٹھا۔
انتظامیہ کی جانب سے سخت حفاظتی انتظامات
عقیدت مندوں کی حفاظت اور سہولت کو یقینی بنانے کے لیے مقامی انتظامیہ پوری طرح چوکس ہے۔ مظفرپور اور ویشالی ضلع انتظامیہ نے مشترکہ طور پر 70 کلومیٹر طویل کاوڑی پاتھ پر سخت حفاظتی انتظامات کیے ہیں۔ پورے راستے پر بھاری تعداد میں پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔ مندر احاطے میں بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے لیے مظفرپور ضلع انتظامیہ نے سخت سیکیورٹی کے درمیان ‘ارگھا’ کا خصوصی انتظام کیا ہے۔ تمام عقیدت مند ارگھا کے ذریعے ہی بابا غریب ناتھ پر محفوظ طریقے سے جل چڑھائیں گے، تاکہ نظام ہموار رہے۔ ہفتہ دیر رات تک تقریباً 15 سے 20 ہزار کاوڑی مظفرپور شہر میں داخل ہو چکے تھے۔ یہ عقیدت مند اتوار دیر رات سے ہی مرکزی قطاروں میں لگ کر جلابھیشیک شروع کریں گے۔ ضلع انتظامیہ نے سبھی سے امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔
پہلی سومواری پر ایک لاکھ سے زائد شیو بھکتوں کی بھیڑ
شمالی بہار کے ‘دیوگھر’ کہے جانے والے مظفرپور کے بابا غریب ناتھ مندر میں ساون کی پہلی سومواری پر تقریباً 1 لاکھ عقیدت مندوں نے جلابھیشیک کیا تھا۔ سونپور کے پہلےجا گھاٹ سے تقریباً 85-87 کلومیٹر لمبی پیدل یاترا کر پہنچے کاوڑیوں اور مقامی عقیدت مندوں نے "ہر-ہر مہادیو” اور "بول بم” کے نعروں کے درمیان یہاں پہنچ کر اپنی عقیدت کا اظہار کیا تھا۔ مندر احاطے سے لے کر شہر کے مرکزی راستوں اور کاوڑی پاتھ پر جگہ جگہ سی سی ٹی وی کیمروں اور ڈرون سے نگرانی رکھی گئی تھی۔ ضلع مجسٹریٹ (DM) اور سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ (SSP) رات بھر خود سیکیورٹی اور انتظامات کی کمان سنبھالتے نظر آئے تھے۔
سہولیات اور رضاکارانہ خدمات
مندر سے تقریباً 5 کلومیٹر دور تک بیری کیڈنگ کر کے عقیدت مندوں کے لیے قطار بند انتظام کیا گیا تھا تاکہ بھیڑ بے قابو نہ ہو۔ وہیں، بھاری تعداد میں مرد و خواتین پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کی گئی تھی۔ مندر کے گربھ گرہ میں بھیڑ اور دھکا مکی سے بچنے کے لیے باہر ہی ‘ارگھا’ لگایا گیا تھا، جس کے ذریعے تمام عقیدت مندوں نے آسانی سے جل چڑھایا تھا۔ مندر انتظامیہ کمیٹی اور سیوا دل کے سینکڑوں رضاکار عقیدت مندوں کو قطار میں منظم کرنے اور رہنمائی دینے میں مصروف تھے۔ خواتین، بزرگوں اور بچوں کے لیے الگ لائن اور امدادی مراکز بنائے گئے تھے۔ مندر کے پردھان پجاری پنڈت ونے پاٹھک کے مطابق، پہلی سومواری کی رات بابا غریب ناتھ کا خصوصی مہا شرنگار اور پرکشش سجاوٹ کی گئی تھی۔ سونپور (پہلےجا گھاٹ) سے گنگا جل لے کر 87 کلومیٹر پیدل چل کر آئے کاوڑیوں نے بتایا تھا کہ "مشکل راستے اور پیروں کے چھالوں کے باوجود بابا کی بھکتی اور ‘بول بم’ کے نعروں کے آگے ساری تھکن دور ہو جاتی ہے۔”
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
