مقامی خبریں

افتتاح سے پہلے ہی خستہ حال: مظفرپور کا چندوارا پل بدعنوانی کی نذر

تعمیراتی معیار پر سنگین سوالات

مظفرپور شہر کے لیے ایک طویل عرصے سے زیر التواء منصوبہ، چندوارا پل، عوام کے لیے کھلنے سے پہلے ہی تنازعات کی زد میں آ گیا ہے۔ کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر کیے گئے اس پل کی حالت اس قدر خستہ ہو چکی ہے کہ اس کے کئی حصوں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں اور حفاظتی ریلنگ بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ابھی تک اس پل پر ٹریفک کا آغاز بھی نہیں ہوا ہے، لیکن اس کی موجودہ حالت تعمیراتی معیار پر بڑے سوالیہ نشان کھڑے کر رہی ہے۔

شکایت اور قانونی کارروائی

اس معاملے کو لے کر مقامی سطح پر شدید برہمی پائی جا رہی ہے۔ آر ٹی آئی کارکن دیوورت سہنی نے اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے دفتر (سی ایم او) میں باضابطہ شکایت درج کرائی ہے۔ شکایت کنندہ کا مطالبہ ہے کہ اس پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کی جائے اور تعمیراتی کام میں ملوث ایجنسیوں اور ٹھیکیداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے اس سلسلے میں ایک قانونی عرضی بھی دائر کی ہے تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔

سات سال کا طویل انتظار

چندوارا پل کی کہانی کافی پرانی ہے۔ یہ پل تقریباً سات سال قبل تعمیر کیا گیا تھا، لیکن اپروچ روڈ کا کام مکمل نہ ہونے کی وجہ سے اسے آج تک عوام کے لیے نہیں کھولا جا سکا۔ طویل عرصے تک لاوارث پڑے رہنے کی وجہ سے پل کے اطراف میں جھاڑیاں اگ آئی تھیں اور دیکھ بھال کے فقدان نے اسے مزید کمزور کر دیا ہے۔ اب جب کہ اپروچ روڈ کا کام آخری مراحل میں ہے، پل کی خستہ حالی نے انتظامیہ کی کارکردگی کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔

انتظامیہ کا مؤقف

محکمہ کے حکام کا کہنا ہے کہ پل کو ٹریفک کے لیے کھولنے سے پہلے اس کی مکمل مرمت کی جائے گی۔ ان کے مطابق، ایکسپینشن جوائنٹس اور بیئرنگ کی جانچ کے بعد ہی اسے عوام کے حوالے کیا جائے گا۔ تاہم، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک نیا پل، جو ابھی استعمال میں بھی نہیں آیا، وہ اپنی عمر سے پہلے ہی بوسیدہ کیوں ہو گیا؟ کیا یہ ناقص میٹریل کا استعمال ہے یا پھر برسوں کی لاپرواہی کا نتیجہ؟ عوام اب اس بات کا جواب چاہتے ہیں کہ ان کے ٹیکس کے پیسوں کا یہ حال کیوں ہوا۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button