مقامی خبریں

گوڑا بورام: بیٹی کی آخری رسومات کے دوران باپ پر حملہ، چتا سے لاش کھینچ کر باہر پھینکی

گوڑا بورام میں انسانیت سوز واقعہ

ضلع کے گوڑا بورام آنچل کے بنوبا نگر گاؤں میں ایک انتہائی افسوسناک اور انسانیت کو شرمندہ کر دینے والا واقعہ پیش آیا ہے۔ یہاں ایک باپ اپنی بیٹی کی آخری رسومات ادا کرنے کے لیے پہنچا تو اسے نہ صرف تشدد کا نشانہ بنایا گیا، بلکہ درندوں نے چتا پر رکھی بیٹی کی لاش کو بھی بے حرمتی کرتے ہوئے باہر کھینچ کر پھینک دیا۔

دہیز کی بھینٹ چڑھی بیٹی

متاثرہ باپ پیتاںبر پنڈت، جو کہ کشیشور استھان تھانہ علاقہ کے بڑگاؤں کے رہائشی ہیں، اپنی بیٹی ریکھا دیوی کی موت کے بعد اس کی آخری رسومات کے لیے بنوبا نگر پہنچے تھے۔ ریکھا کی موت مبینہ طور پر دہیز کے تنازعہ کے بعد ہوئی، جس کے بعد اس کے سسرال والوں پر قتل کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا۔ پوسٹ مارٹم کے بعد جب والد اپنی بیٹی کو آخری بار سپردِ خاک کرنے یا جلانے کی تیاری کر رہے تھے، تبھی کچھ بدمعاشوں نے وہاں پہنچ کر ہنگامہ کھڑا کر دیا۔

پولیس کی کارروائی اور ایف آئی آر

اس واقعہ کے بعد علاقہ میں شدید کشیدگی پھیل گئی۔ پیتاںبر پنڈت نے مقامی تھانہ میں تحریری شکایت درج کرائی ہے جس میں ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ پولیس نے اس معاملے میں قتل اور لاش کی بے حرمتی کے زاویوں سے تفتیش شروع کر دی ہے۔

دوسری جانب، گھنشیام پور تھانہ میں ریکھا دیوی کی موت کے معاملے میں ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ اس مقدمے میں گوپال سنی اور سنتوش پنڈت کو نامزد ملزم بنایا گیا ہے۔ بی این ایس کی دفعہ 80 کے تحت درج اس کیس میں پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی گہرائی سے تفتیش کی جا رہی ہے اور جلد ہی ملوث افراد کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی بیرول کے ایس ڈی پی او پربھاکر تیواری، بی ڈی او اور سی او سمیت اعلیٰ افسران نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور صورتحال کا جائزہ لیا۔

انصاف کی دہائی

مقامی لوگوں میں اس واقعہ کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ لواحقین کا مطالبہ ہے کہ نہ صرف بیٹی کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے بلکہ آخری رسومات کے دوران ہنگامہ کرنے والے بدمعاشوں کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ فی الحال پولیس کی ٹیمیں ملزمان کی تلاش میں چھاپے مار رہی ہیں۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button