پوری رتھ یاترا میں بھگدڑ: ایک ہلاک، 200 سے زائد زخمی
پوری، اڈیشہ: تاریخی جگن ناتھ رتھ یاترا کے دوران پوری میں بھگدڑ جیسے حالات پیدا ہو گئے، جس کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور 200 سے زائد افراد زخمی ہو کر اسپتال میں داخل ہو گئے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب لاکھوں عقیدت مند بھگوان جگن ناتھ، بلبھدر اور سبھدرا کے رتھوں کو کھینچنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔
تفصیلات کے مطابق، یہ حادثہ یاترا کے عروج پر اس وقت پیش آیا جب عقیدت مندوں کی ایک بڑی تعداد رتھوں کے قریب پہنچنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اچانک بھیڑ میں دھکم پیل شروع ہو گئی، جس کے باعث کئی لوگ زمین پر گر گئے اور انہیں کچلا گیا۔ مقامی انتظامیہ اور پولیس نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں اور زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا۔
ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت ابھی تک نہیں ہو سکی ہے، جبکہ زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ اسپتال ذرائع کے مطابق، زیادہ تر زخمیوں کو معمولی چوٹیں آئی ہیں، لیکن کچھ کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ ڈاکٹروں کی ٹیمیں زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کر رہی ہیں۔
جگن ناتھ رتھ یاترا ہر سال اڈیشہ کے پوری میں منعقد ہوتی ہے اور اسے دنیا کی سب سے بڑی مذہبی تقریبات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ اس یاترا میں ملک بھر سے اور بیرون ملک سے لاکھوں عقیدت مند شرکت کرتے ہیں۔ اس سال بھی تقریباً 2 لاکھ عقیدت مندوں نے اس یاترا میں شرکت کی۔
رتھ یاترا کی تیاریوں میں کئی مہینے لگتے ہیں۔ بھگوان جگن ناتھ، بلبھدر اور سبھدرا کے لیے تین دیو ہیکل رتھ تیار کیے جاتے ہیں جن میں کوئی کیل استعمال نہیں ہوتی۔ یہ رتھ لکڑی سے بنائے جاتے ہیں اور ان کی اپنی منفرد خصوصیات ہوتی ہیں۔
اس واقعے کے بعد انتظامیہ نے یاترا کے انتظامات اور بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے طریقوں پر نظر ثانی کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سمراٹ نے بھی اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی ہے۔ انہوں نے یاترا کے آغاز پر بھگوان کے دربار میں جھاڑو بھی لگایا تھا، جو ایک روایتی رسم ہے۔
اس واقعے نے ایک بار پھر بڑے مذہبی اجتماعات میں بھیڑ کے انتظام کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کے لیے مزید سخت حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔