پنڈت سہدیو جھا کو بھارت رتن دینے کا مطالبہ، مظفرپور میں یادگاری پارک اور مجسمے کا اعلان
مظفرپور: عظیم مجاہد آزادی اور ‘بہار وبھوتی’ پنڈت سہدیو جھا کی یاد میں ایک پروقار تقریب عامگولا میں منعقد کی گئی، جہاں ان کی قربانیوں اور آزادی کی تحریک میں ان کے بے مثال کردار کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ اس موقع پر کئی اہم اعلانات کیے گئے جن میں ان کی سوانح حیات کو ریاستی تعلیمی نصاب میں شامل کرنا، میناپور میں ایک یادگاری پارک کی تعمیر، اور شہر میں ان کا مجسمہ نصب کرنا شامل ہیں۔
تقریب میں موجود سیاحت کے وزیر کیدار پرساد گپتا نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت پنڈت سہدیو جھا کی یادوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ریاستی حکومت کے اسکولوں کے نصاب میں ان کی زندگی اور جدوجہد کو شامل کرنے کے لیے پہل کی جائے گی۔ یہ اقدام نئی نسل کو ان کی قربانیوں سے روشناس کرانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
میناپور کے ایم ایل اے اجے کشواہا نے اس موقع پر ایک اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پنڈت سہدیو جھا کے نام پر میناپور میں ایک شاندار یادگاری پارک تعمیر کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس منصوبے کے لیے وہ جلد ہی ضلعی منصوبہ بندی افسر کو باضابطہ خط لکھیں گے۔ اس کے علاوہ، شہر میں ان کا ایک مجسمہ نصب کرنے کا بھی ذکر کیا گیا تاکہ عوام انہیں ہمیشہ یاد رکھ سکیں۔
اس یادگاری تقریب میں کئی سرکردہ شخصیات نے پنڈت سہدیو جھا کو ملک کا سب سے بڑا شہری اعزاز ‘بھارت رتن’ دینے کا پرزور مطالبہ کیا۔ ایودھیا دھام ہنومان گڑھی کے مہنت راجو داس، ایم ایل اے میتھلی ٹھاکر، اور سابق وزیر ای. اجیت کمار سمیت دیگر رہنماؤں نے اس مطالبے کی حمایت کی۔ مہنت راجو داس نے کہا کہ وہ اس مطالبے کو لے کر وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری سے ملاقات کریں گے۔
اس تقریب کی صدارت اشوک جھا نے کی جبکہ نظامت کے فرائض کندن شاندلیہ نے انجام دیے۔ پنڈت سہدیو جھا کے پڑپوتے پروفیسر اوم پرکاش جھا نے مہمانوں کا استقبال کیا، اور سماجی کارکن تیج نارائن جھا نے شکریہ ادا کیا۔ تقریب میں سابق وزیر سریش شرما، سابق ایم ایل سی راج کشور سنگھ کشواہا، ڈپٹی میئر ڈاکٹر مونالیسا، چانکیہ ودیاپتی سوسائٹی کے صدر پنڈت ونے پاٹھک، ہری شنکر پاٹھک، رگھونندن پرساد سنگھ امر، پروفیسر وکاس نارائن اپادھیائے، ایڈوکیٹ ارون پانڈے، پرشورام سناتن سنگھ کے دھننجے پانڈے، میتھیلیش تیواری، مہنت کامیش جھا، سونو پانڈے، چندن پانڈے، کوشل دوبے، منا جھا، مراری جھا، چدانند دویدی، منمن ترویدی، ساکیت رمن پانڈے، اور طلبہ رہنما سنکیت مشرا سمیت بڑی تعداد میں معززین موجود تھے۔
یہ اعلانات اور مطالبات پنڈت سہدیو جھا کی میراث کو زندہ رکھنے اور ان کی قربانیوں کو تسلیم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
