مظفر پور: گھر کے باہر پتہ پوچھنے کے بہانے خاتون سے ڈیڑھ لاکھ کی چین لوٹ لی گئی
برہم پورہ میں دن دہاڑے واردات سے علاقے میں خوف و ہراس
مظفر پور کے برہم پورہ تھانہ علاقے میں جرائم پیشہ عناصر کے حوصلے اس قدر بلند ہو چکے ہیں کہ اب وہ گھروں کے دروازوں تک پہنچ کر وارداتوں کو انجام دے رہے ہیں۔ راہول نگر روڈ نمبر 2 میں پیش آنے والے ایک تازہ واقعے نے مقامی باشندوں کی نیندیں اڑا دی ہیں، جہاں موٹر سائیکل سوار دو بدمعاشوں نے ایک خاتون کو اپنا شکار بنایا۔
پتہ پوچھنے کا ڈرامہ اور لوٹ
متاثرہ خاتون ونینتا ٹھاکر اپنے گھر کے باہر موجود تھیں کہ تبھی ایک سیاہ رنگ کی پلسر موٹر سائیکل پر سوار دو نامعلوم افراد وہاں پہنچے۔ ملزمان نے انتہائی چالاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خاتون سے برہم پورہ جانے کا راستہ اور کسی نامعلوم پتے کے بارے میں پوچھ گچھ شروع کر دی۔ خاتون ابھی ان کی باتوں میں الجھی ہی تھیں کہ پیچھے بیٹھے بدمعاش نے پھرتی دکھاتے ہوئے ان کے گلے سے سونے کی چین جھپٹ لی۔ واردات اتنی تیزی سے ہوئی کہ خاتون کو سنبھلنے کا موقع تک نہیں ملا اور ملزمان اپنی موٹر سائیکل پر فرار ہو گئے۔
سی سی ٹی وی میں قید ہوئی واردات
اس پوری واردات کی فوٹیج محلے میں لگے ایک سی سی ٹی وی کیمرے میں محفوظ ہو گئی ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح ملزمان تیزی سے گلیوں سے گزر رہے ہیں۔ تاہم، کیمرے کی دوری اور گاڑی کی رفتار کی وجہ سے ملزمان کے چہرے واضح نہیں ہو سکے ہیں۔ پولیس اب اس فوٹیج کو بنیاد بنا کر تفتیش کر رہی ہے۔
عوامی غصہ اور پولیس کا ردعمل
اس واقعے کے بعد مقامی لوگوں میں شدید برہمی پائی جا رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر رہائشی علاقوں میں بھی خواتین محفوظ نہیں ہیں، تو پھر امن و امان کی صورتحال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ پولیس کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے مقامی لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ گشت بڑھائی جائے اور مجرموں کو جلد گرفتار کیا جائے۔
دوسری جانب، ڈی ایس پی (سٹی-2) ونینتا سنہا نے بتایا کہ پولیس کی ایک ٹیم معاملے کی چھان بین کر رہی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزمان کی شناخت کی جا رہی ہے اور جلد ہی انہیں قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
