مقامی خبریں

مظفرپور کے کسان کا کمال: نالندہ کے آم کے باغوں سے سالانہ 8 لاکھ کی کمائی

جدید طریقہ کاشت سے بدلتی تقدیر

مظفرپور کے ضلع میناپور کے کھیمائے پٹی گاؤں سے تعلق رکھنے والے سنیل کمار کشواہا نے کاشتکاری کی دنیا میں ایک نئی مثال قائم کی ہے۔ روایتی کھیتی باڑی سے ہٹ کر سنیل نے نالندہ کے استھواں بلاک میں آم کے باغات کو کرائے پر لے کر جدید اٹالین شہد کی مکھیوں کے پالن کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف ان کی اپنی آمدنی کا ذریعہ بنا ہے بلکہ مقامی کسانوں کے لیے بھی ایک مشعل راہ ثابت ہو رہا ہے۔

اٹالین مکھیوں کی خاصیت اور فوائد

سنیل کمار فی الحال 800 سے زائد بکسوں کے ذریعے یہ کاروبار چلا رہے ہیں۔ اٹالین نسل کی مکھیاں اپنی پرسکون فطرت اور زیادہ شہد پیدا کرنے کی صلاحیت کے لیے جانی جاتی ہیں۔ یہ مکھیاں دیگر مقامی اقسام کے مقابلے میں تین گنا زیادہ شہد تیار کرتی ہیں اور بہت تیزی سے اپنی تعداد میں اضافہ کرتی ہیں۔ ان مکھیوں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ دور دراز علاقوں سے رس جمع کر کے باحفاظت اپنے چھتے میں واپس لوٹ آتی ہیں۔

کاروبار کا ماڈل اور آمدنی

گزشتہ 28 برسوں سے شہد کی پیداوار اور مارکیٹنگ سے وابستہ سنیل کمار سالانہ تقریباً 8 لاکھ روپے کی آمدنی حاصل کر رہے ہیں۔ ان کا کام صرف بہار تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ جھارکھنڈ، اتر پردیش، ہریانہ، پنجاب اور راجستھان جیسے کئی ریاستوں میں بھی اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ آم کے باغات میں مکھیوں کا پالن کرنے سے شہد کا معیار اور ذائقہ دونوں بہتر ہو جاتے ہیں۔

نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع

سنیل کمار نہ صرف خود اس کاروبار سے وابستہ ہیں بلکہ وہ بے روزگار نوجوانوں اور مقامی کسانوں کو بھی اس کی تربیت فراہم کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ روایتی کھیتی میں منافع کم ہونے کی وجہ سے کسانوں کو اب زرعی کاروبار کی طرف رخ کرنا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق، 10 بکسوں کے ساتھ اس کاروبار کو شروع کرنے کے لیے تقریباً 40 ہزار روپے کی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے، جو کہ کم لاگت میں زیادہ منافع کا بہترین ذریعہ ہے۔

سرکاری تعاون اور مستقبل

شہد کی پیداوار کو فروغ دینے کے لیے مرکزی اور ریاستی حکومتیں، نابارڈ اور نیشنل بی بورڈ کے ذریعے 90 فیصد تک گرانٹ فراہم کر رہی ہیں۔ اس سہولت سے فائدہ اٹھا کر کسان اپنی معاشی حالت کو مستحکم کر سکتے ہیں۔ آج بہار کے باغات میں تیار کردہ شہد کی مانگ نہ صرف مقامی منڈیوں میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی بڑھ رہی ہے، جس سے اس شعبے میں ترقی کے وسیع امکانات پیدا ہوئے ہیں۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button