مظفرپور کے دو بھائیوں کا کمال: ایک بنا فوج کا لیفٹیننٹ، دوسرے نے آئی آئی ٹی میں لہرایا پرچم
تعلیم اور عزم کی نئی مثال
مظفرپور کے پارو بلاک کے رہنے والے دو بھائیوں نے اپنی محنت اور لگن سے پورے ضلع کا نام روشن کیا ہے۔ ایک طرف جہاں آدتیہ کمار نے ہندوستانی فوج میں لیفٹیننٹ کے عہدے پر فائز ہو کر ملک کی خدمت کا حلف لیا ہے، وہیں ان کے چھوٹے بھائی آدرش کمار نے آئی آئی ٹی (IIT) میں کامیابی حاصل کر کے اپنے تعلیمی سفر کو ایک نئی بلندی دی ہے۔
خود مطالعہ اور مستقل مزاجی کی کہانی
لیفٹیننٹ آدتیہ کی کامیابی کا سفر آسان نہیں تھا۔ انہوں نے اپنی تعلیم کا آغاز بہار بورڈ سے کیا، جہاں میٹرک میں 90 فیصد اور بارہویں جماعت میں 89 فیصد نمبر حاصل کیے۔ الہ آباد یونیورسٹی سے ریاضی میں گریجویشن کے دوران ہی انہوں نے این ڈی اے (NDA) کا خواب دیکھا۔ آدتیہ بتاتے ہیں کہ 2020 اور 2021 میں ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن والدین کی حوصلہ افزائی اور خود مطالعہ (Self-study) کے بل بوتے پر 2022 میں انہوں نے بالآخر کامیابی حاصل کر لی۔
کامیابی کے لیے ضروری نکات
آدتیہ کا ماننا ہے کہ کسی بھی بڑے امتحان کو پاس کرنے کے لیے شارٹ کٹ کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ انہوں نے طلباء کو مشورہ دیا کہ:
- بارہویں جماعت کے نصاب پر مکمل گرفت ہونی چاہیے۔
- ملک اور دنیا کے حالات سے باخبر رہنے کے لیے جنرل اسٹڈیز پر توجہ دیں۔
- یوٹیوب جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا تعمیری استعمال کریں۔
- ایس ایس بی (SSB) کے لیے کمیونیکیشن اسکلز اور گروپ ڈسکشن کی مشق کریں۔
- فزیکل فٹنس اور آؤٹ ڈور گیمز کو اپنی روزمرہ کی زندگی کا حصہ بنائیں۔
خاندانی پس منظر
اس کامیابی کے پیچھے ان کے والدین کا بڑا ہاتھ ہے۔ والد سنجے کمار چودھری ایک دوا ساز کمپنی میں مینیجر ہیں، جبکہ والدہ روبی کماری ایک گھریلو خاتون ہیں۔ فی الحال یہ خاندان مظفرپور کے بھگوان پور سبزی منڈی کے قریب رہائش پذیر ہے۔ آدتیہ کی کامیابی کے بعد دہرادون کی انڈین ملٹری اکیڈمی میں پاسنگ آؤٹ پریڈ کے دوران جب ان کے کندھوں پر ستارے لگے، تو یہ لمحہ پورے خاندان کے لیے فخر کا باعث بن گیا۔ یہ دونوں بھائی آج مظفرپور کے نوجوانوں کے لیے ایک مشعل راہ بنے ہوئے ہیں۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
