مظفرپور کے بازاروں میں آم کی بہار: اب 100 روپے میں مل رہا ہے ڈیڑھ کلو لذیذ پھل
شاہی لیچی کے بعد اب آم کا راج
مظفرپور کے پھل بازاروں میں شاہی لیچی کا سیزن ختم ہوتے ہی اب ‘پھلوں کے بادشاہ’ آم نے اپنی جگہ بنا لی ہے۔ شہر کی اہم منڈیوں جیسے زیرو مائل، سریاگنج ٹاور، کلیانی چوک اور سکندرپور میں آم کی زبردست آمد سے رونقیں بحال ہو گئی ہیں۔ خریداروں کے لیے سب سے بڑی خوشخبری یہ ہے کہ اب آم کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ میں آ گئی ہیں۔
بجٹ میں آم، خریداروں کے چہروں پر مسکراہٹ
بازار میں اس وقت بہترین کوالٹی کے آم 100 روپے میں ڈیڑھ کلو کے حساب سے فروخت ہو رہے ہیں۔ یعنی تقریباً 65 سے 67 روپے فی کلو کی قیمت پر صارفین اپنی پسند کے پھل خرید رہے ہیں۔ سیزن کے آغاز میں قیمتیں کافی زیادہ تھیں، لیکن اب مغربی بنگال، مالدہ اور جنوبی ہندوستان کے ساتھ ساتھ مقامی باغات سے بھی سپلائی میں اضافہ ہوا ہے، جس کا براہِ راست فائدہ صارفین کو مل رہا ہے۔
کون سی اقسام ہیں مقبول؟
شہر کے بازاروں میں اس وقت کئی اقسام کے آم دستیاب ہیں، جن میں درج ذیل شامل ہیں:
- مالدہ: یہ مقامی خریداروں کی پہلی پسند ہے، خاص طور پر کانٹی اور میناپور کے علاقوں سے آنے والے مالدہ کی مانگ سب سے زیادہ ہے۔
- دشہری: اپنی مٹھاس کے لیے مشہور یہ قسم بھی بڑی تعداد میں خریدی جا رہی ہے۔
- جردالو: بھاگلپور کا جی آئی ٹیگ یافتہ جردالو آم اپنی منفرد خوشبو کی وجہ سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے۔
- دیگر اقسام: بازار میں گلاب خاص، بئگن پلی اور زردہ آم بھی وافر مقدار میں موجود ہیں۔
کاروبار میں تیزی
تھوک تاجروں کا ماننا ہے کہ اگلے ایک سے دو ہفتوں میں جب مقامی مالدہ اور جردالو کی فصل اپنے عروج پر ہوگی، تو قیمتوں میں مزید گراوٹ دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ شام کے وقت بازاروں میں خریداروں کا تانتا بندھ جاتا ہے، جس سے پھل فروشوں کے کاروبار میں بھی نئی جان آ گئی ہے۔ لیچی کے بعد آم کے اس سیزن نے مظفرپور کے بازاروں کو ایک بار پھر پھلوں کا مرکز بنا دیا ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
